.

وزن گھٹانے تک 8 مصری ٹی وی پیشکاروں کی چھٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سرکاری ٹیلی ویژن کارپوریشن نے سرکاری ٹی وی کی 8 خواتین پیش کاروں کو دبلی پتلی ہونے تک نوکری سے معطل کردیا ہے تاہم اس عرصے میں ان کی تنخواہ اور دیگر مراعات انہیں بدستور ملتی رہیں گی۔

سرکاری ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کی چیئرپرسن صفاء حجازی کا کہنا ہے کہ وہ ٹی وی اسکرین پر اسمارٹ لوگوں کو لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ ٹی وی اسکرین پر بہتر دکھائی دینے والے چہرے اور زیادہ موزوں مواد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کوئی حرج نہیں کہ آٹھ پیش کاروں کو اپنا وزن کم کرنے کا ایک موقع دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ان کی مراعات اور تنخواہ پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے حجازی کا کہنا تھا کہ آٹھ خواتین ٹی وی میزبانوں اور نیوز کاسٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا وزن کم کریں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ہم ٹی وی کے لوازمہ کو بہتر بنانے کا حق نہیں رکھتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ مصرکے تمام نجی ٹی وی چینلوں اور بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی اپنی اپنی مخصوص پالیسی اور قواعدو ضوابط ہوتے ہیں جو اپنے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کرتے ہیں۔

ٹی وی پیش کاروں کے دبلی پتلی ہونے کے فیصلے سے متاثر ہونے والی ایک نیوز اینکر خدیجہ خطاب کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اخبارات میں شائع کیا جانا ٹی وی اینکروں کی توہین ہے۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے خدیجہ نے کہا کہ اگر فربہ نیوز کاسٹرز اسکرین پر نمودار ہونے کی اہل نہیں تو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نیوز اینکر کے اختیارات کا تعین کون اور کس بنیاد پر کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض لوگوں نے موٹی نیوز پیش کاروں کی معطلی کے فیصلے کی مخالفت جب کہ کچھ لوگوں نے اسے جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔