اقوام متحدہ کا ایران میں اندھا دھند پھانسیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی 22 عالمی تنظیموں نے ایران میں سیاسی قیدیوں کو دی جانے والی پھانسیوں اور سنہ 1979ء کے بعد حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والے اپوزیشن کے ہزاروں قیدی کارکنوں اور رہ نماؤں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ایران کی جیلوں میں 915 افراد سیاسی بنیادوں پر پابند سلاسل ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ سزائے موت پانے والے قیدیوں میں کرد، عرب اور بلوچ اقلیت کے شہری شامل ہیں۔

سیاسی قیدیوں کو پھانسی کی سزاؤں کی تحقیقات کا مشترکہ مطالبہ کرنے والوں میں ایران میں دفاع انسانی حقوق مرکز کی سربراہ اور امن نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی، سرکردہ سماجی رہ نما مہر انگیز، شادی صدر، صوبہ اھوازمیں انسانی حقوق مرکز کے چیئرمین ڈاکٹر کریم عبدیان بن سعید اور کردستان کی انسانی حقوق تنظیم کی ڈائریکٹر آفا ہوما شامل ہیں۔

رواں ماہ کےاوائل میں ایرانی حکام نے25 سیاسی قیدیوں کو اجتماعی طورپر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ان میں تین افراد کا تعلق عرب قومیت سے تھا۔ اجتماعی طورپر موت کے گھاٹ اتارے جانے والے تمام افراد اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔اسی تناظر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایرانی اور عالمی عالمی تنظیموں کی طرف سے سیاسی قیدیوں کو دی گئی پھانسیوں کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں قیدیوں کو معمولی جرائم میں سزائے موت سنائے جانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ایران میں قیدیوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات اور انقلاب عدالتوں کی طرف سے دی گئی موت کی سزاؤں کو غیرمنصفانہ قرار دے کر ان کی بار بار مذمت کرچکی ہیں۔ ایران میں حکومت سے اختلاف کرنے والے کسی بھی شخص کو جیل میں ڈال کر اس کے خلاف فساد فی الارض کے الزام میں مقدمات چلائے جاتے ہیں اور ایرانی عدالتیں نام نہاد الزامات میں قیدیوں کو موت کی سزائیں دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں