"بورکنی" کے خلاف مہم کا جواب.. سمندر پر راہبات کی تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹلی کے شہر فلورنس کی ایک مسجد کے امام عزالدین الزیر نے اپنے فیس بک پیج پر راہبات کے ایک گروپ کی تصویر نشر کی ہے جس میں یہ خواتین ساحل سمندر پر اپنے مذہبی لباس کے ساتھ سر کو ڈھانپے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ تصویر کے منظرعام پر آنے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ امام عزالدین نے یہ تصویر "بورکنی" کے نام سے معروف تیراکی کے اسلامی لباس کے خلاف جاری مہم کے جواب میں جاری کی ہے۔

فرانس میں " بورکنی" کی اجازت یا عدم اجازت کا تنازع اپنے عروج پر ہے۔ اس مسئلے کے اٹلی تک پہنچ جانے کے بعد فلورنس کے امام نے بنا کسی تبصرے کے ساحل سمندر پر لطف اندوز ہوتی آٹھ راہبات کی تصویر جاری کی ہے۔

فیس بک کے صارفین کی جانب سے مسلسل اعتراض پر ویب سائٹ کی انتظامیہ نے امام عزالدین کا پیج بلاک کر دیا تاہم اس سے پہلے ہی راہبات کی تصویر کو 2000 سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا جا چکا تھا۔

چند گھنٹوں کے بعد عزالدین کا صفحہ بحال کر دیا گیا جس پر فلورنس کے امام نے واضح کیا کہ وہ اس بلا تبصرہ تصویر کے ذریعے " ان لوگوں کو جواب دینا چاہتے تھے جن کا کہنا ہے کہ لباس اور جسم کو ڈھانپنے کے طریقہ کار میں ہماری مغرب کی اقدار مخلتف ہیں"۔

اطالوی ٹیلی وژن نیٹ ورک "اسکائی ٹی جی 24" سے گفتگو کرتے ہوئے امام عزالدین نے بتایا کہ "میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ بعض مغربی اقدار مسیحی مذہب سے آئی ہیں.. اور مسیحی مذہب کی بنیادیں ایسی شخصیات سے وابستہ ہیں جو اپنے جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپتی تھیں"۔

اٹلی میں اسلامی انجمنوں کے اتحاد کے سربراہ امام عزالدین کے مطابق ان کی پوسٹ کی گئی تصویر کے حوالے سے "بہت سے مسیحی افراد" کی جانب سے خیرمقدمی تبصرے بھی موصول ہوئے ہیں۔

فرانس میں بورکنی کے پہننے کے حوالے سے تنازع کھڑا ہونے کے بعد اطالوی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ "بورکنی"، یعنی سمندر پر جسم اور سر کو مکمل ڈھانپنے والے دین دار مسلمان خواتین کے لباس سے روکنا غیرمناسب بلکہ خطرناک امر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں