ترکی: شادی کی تقریب میں بم دھماکے سے 50 افراد جاں بحق

طیب ایردوآن نے داعش کو حملے کا ذمہ دار قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے جنوبی شہر غازی عنتاب میں ہفتے کی شام شادی کی ایک تقریب کے دوران ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 50 ہو گئی ہے جبکہ مزید 94 افراد زخمی ہیں۔

غازی عنتاب کے گورنر نے ’سی این این ترکی‘ سے بات کرتے ہوئے شادی کی تقریب میں دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ حملے میں ممکنہ طور پر داعش کا ہاتھ ملوث ہے۔ ایردوآن کی سیاسی جماعت ’آق‘ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے ’ٹوئٹر‘ پرایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ اس حملے میں دولت اسلامی ’داعش‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

شہر کے گورنر علی ییرلیکایا نے قبل ازیں بتایا تھا کہ شام کی سرحد سے متصل علاقے میں ایک خود کش بمبار نے دہشت گردی کی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

واقعے کے فوری بعد نائب وزیراعظم غازی عنتاب پہنچے ہیں جہاں سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے ایک بیان میں اس حملے کو وحشیانہ کارروائی قرار دیا۔ نائب وزیراعظم محمد شیشمک نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شادی جیسی تقاریب میں دشمن کی جانب سے دہشت گردانہ حملے کرنا لوگوں کو خوف و ہراس میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ مگر ہم دشمن کی اس سازش کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ محمد ایردوآن کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک بم دھماکہ تھا جس کا نشانہ شادی کی تقریب میں جمع عام شہری تھے۔

واقعےکے فوری بعد ایمبولینسیں اور امدادی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔

خیال رہے کے شمالی اوقیانوس کے عسکری اتحاد ’’نیٹو‘‘ کے رکن ترکی پرگذشتہ کچھ عرصے سے دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کہلوانے والی تنظیم تواترکے ساتھ حملے کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ترکی میں کرد علاحدگی پسند بھی زور و شور سے اپنی تحریک چلارہے ہیں۔ وسط جولائی میں ترکی فوجی بغاوت کی ایک ناکام سازش کا بھی سامنا کر چکا ہے۔

جولائی میں ترکی کے اتا ترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی دہشت گردی کی خوفناک واردات کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے تین مشتبہ داعشی خود کش بمباروں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں