داعش کے 12 سے 14 سال عمر کے خودکش بمبار نے حملہ کیا: ترک صدر

غازی عنتاب میں بم دھماکے کی جگہ سے خودکش جیکٹ کی باقیات برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہاہے کہ داعش کے ایک کم سن بمبار نے غازی عنتاب شہر میں شادی کی ایک تقریب میں جمعرات کی شب خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔انھوں نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس خودکش بمبار کی عمر بارہ اور چودہ سال کے درمیان تھی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ خودکش بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد اکاون ہوگئی ہے اور اس وقت انہتر زخمی افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ان میں سترہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبوں سیرت اور وان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاقے میں یہ حملہ کیا گیا تھا۔

پولیس نے غازی عنتاب کے علاقے شاہین بے میں بم دھماکے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ انھیں حملے میں استعمال کی گئی ایک خودکش جیکٹ کی باقیات مل گئی ہے۔

صدر طیب ایردوآن نے قبل ازیں ایک بیان میں اس خودکش حملے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس میں داعش کا ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ '' جو لوگ ترکی پر قبضہ نہیں کرسکتے اور اب لوگوں کو نسلی اور فرقہ وارانہ حساسیت کے ذریعے اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں،وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے''۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ ستر سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے والے جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) ،گذشتہ ماہ ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث فیٹو (فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم ) اور غازی عنتاب میں دہشت گردی کا حملہ کرنے والے داعش میں کچھ بھی فرق نہیں ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''غازی عنتاب ایسے حملوں کا مقصد ترکی کے مختلف نسلی گروپوں عربوں ،کردوں اور ترکمن کے درمیان تقسیم کے بیج بونا اور نسلی اور مذہبی بنیادوں پر جذبات کو برافروختہ کرنا ہے''۔

غازی عنتاب میں ایک گلی میں منعقدہ شادی کی تقریب میں یہ خودکش حملہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب صدر ایردوآن استنبول میں وزیراعظم بن علی یلدرم ، چیف آف جنرل اسٹاف حلوسی عکار اور متعدد وزراء کے ساتھ ایک سکیورٹی اجلاس میں شریک تھے۔

بعض عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت شادی کے شرکاء خوشی میں بھنگڑا ڈال رہے تھے، گانے گارہے تھے اور تقریب اختتام کو پہنچنے والی تھی مگر خوشیوں بھری اس محفل کے شرکاء کو خودکش بمبار نے دھماکا کرکے خون میں نہلا دیا۔

ترکی کی کرد نواز جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک رکن کی شادی کی تقریب میں یہ خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ان میں سے بارہ کی اتوار کو تدفین کردی گئی ہے اور باقی مہلوکین کی شناخت کے بعد تدفین کی جائے گی کیونکہ بہت سی لاشیں زور دار دھماکے کے نتیجے میں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں اور ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں