بشّار عبوری مرحلے کے مذاکرات کا حصہ ہیں : ترک وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ انقرہ آئندہ چھ ماہ میں شام کے تنازع سے نمٹنے کے لیے زیادہ فعال کردار کی امید رکھے گا تا کہ یہ ملک نسلی بنیاد پر تقسیم نہ ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کے نزدیک بشار الاسد عبوری مرحلے کے مذاکرات کا ایک حصہ ہیں تاہم وہ شام کے مسقبل کا کوئی حصہ نہیں ہوں گے۔

یہ بیان روس اور ترکی کے ایک دوسرے کے قریب آنے کے چند روز سامنے آیا ہے جب کہ روس شامی حکومت کا حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اعلان یہ ترک وزیر خارجہ کے تہران کے غیراعلانیہ دورے کے بھی بعد کیا گیا ہے۔

بن علی یلدرم کے مطابق دمشق نے اس خطرے کو بھانپ لیا ہے جو کُرد شام کے لیے بھی پیدا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ترک وزیراعظم نے باور کرایا ہے کہ امریکا " ہمارا دشمن نہیں بلکہ تزویراتی شراکت دار ہے"۔ انہوں نے زور دیا کہ اس موقع پر کشیدگیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ انقرہ کی جانب سے معروف اسکالر فتح اللہ گولن کو حوالے کیے جانے سے متعلق مطالبے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

یلدرم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ " دنوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آنا ممکن ہے تاہم ہم پر لازم ہے کہ اس چیز کو ختم کریں جس کے سبب ہمارے تعلقات خراب ہوں"۔

یلدرم کا اشارہ امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے گولن کی حوالگی سے متعلق اختلاف کی جانب تھا۔ ترکی گولن کو 15 جولائی کو ہونے والی انقلاب کی کوشش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں