لیبی فورسز کا سرت میں مرکزی مسجد اور ایک جیل پر کنٹرول ،داعش پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے تحت فورسز نے وسطی شہر سرت سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک نئے حملے کا آغاز کیا ہے۔لیبی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کی مرکزی جامع مسجد اور ایک جیل پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

سرت میں داعش کے خلاف گذشتہ تین ماہ سے ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والی فورسز اور ان کے اتحادی بریگیڈز نے مہم برپا کر رکھی ہے۔انھوں نے شہر کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے اور داعش کے جنگجوؤں کو وسط میں واقع رہائشی علاقے تک محدود کردیا ہے۔یکم اگست کے بعد امریکا کے لڑاکا طیارے بھی ان کی حمایت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

مصراتہ اسپتال کے ترجمان اکرم غلوان نے بتایا ہے کہ اتوار کو داعش کے خلاف لڑائی کے دوران بریگیڈ کے نو جنگجو ہلاک اور پچاسی زخمی ہوگئے تھے۔انھوں نے قبل ازیں بھاری توپ خانے اور ٹینکوں کے ساتھ سرت کے علاقے بوفرعا کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی اور داعش کی اخلاقی پولیس کے زیر استعمال ایک عمارت پر قبضہ کرلیا تھا۔لیبی فورسز کے ترجمان رضا عیسیٰ نے بتایا ہے کہ یہ عمارت ایک جیل کے طور پر استعمال کی جارہی تھی۔

اس کے بعد فورسز نے سرت کی سب سے بڑی مسجد رباط پر بھی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اسی مسجد میں داعش کے نظریاتی رہ نما ترکی بن علی سمیت دیگر قائدین تقریریں کیا کرتے تھے۔

لیبی فورسز کے میڈیا دفتر نے بتایا ہے کہ قبضے میں لیے گئے نئے علاقوں میں داعش کے دسیوں جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔تاہم اس نے ان مہلوکین کی حقیقی تعداد نہیں بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ انھیں کب لڑائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکا کی افریقا کمان کے مطابق جمعرات تک امریکی لڑاکا طیاروں نے سرت پر پیسنٹھ فضائی حملے کیے تھے اور ایک حالیہ حملے میں داعش کے ایک سپلائی ٹرک ،دھماکا خیز مواد سے لدی ایک گاڑی اور تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان حملوں کے نتیجے میں لیبی فورسز کی داعش کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی تیز ہوگئی ہے جبکہ اس سے پہلے خودکش بم دھماکوں ،بارودی سرنگوں اور گھات لگا کر فائرنگ کرنے والے نشانچیوں کی وجہ سے ان کی پیش قدمی سست روی کا شکار تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں