.

کولمبیا:جیل میں اجتماعی شادی کی منفرد تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی بہبود کے اداروں اور سرکاری سطح پراجتماعی شادیوں کے پروگرامات کا انعقاد کو معمول کی بات ہے مگر کسی جیل میں اجتماعی شادی کے شادیانے بج اٹھیں تو یہ بالیقین غیرمانوس اقدام ہی سمجھا جائے گا۔

جی ہاں! کولمبیا کی جیل ’’ویاھیرموسا‘‘ میں گذشتہ جمعہ کو 17 قیدیوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں نے خود ہی جیل میں شادی پر آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بعد حکومت نے اس کا اہتمام کیا۔

ملک کے شمال مغربی حصے میں واقع ملک کے تیسرے بڑے شہر کالی کی جیل میں دلہنیں اپنے قیدی شوہروں سے شادی کے لیے سفید رنگ کے روایتی شادی کے ملبوسات پہن کر جیل میں آئیں۔ اس موقع پر دلہوں اور دلہنوں کے خاندانوں کےکچھ افراد کو بھی ساتھ آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اجتماعی شادی کے پروگرام میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے 39 سالہ اوسکار ایفان ھیناؤ نے 31 سالہ ماغدا گونزالیس نے گذشتہ اپریل میں شادی کا فیصلہ کیا کیا تھا۔ مگر ھیناؤ کو مالی بلیک میلنگ کے جُرم میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے لیے اخراجات جمع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

جب اسے یہ اطلاع ملی کہ جیل انتظامیہ اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کررہی ہے تو اس نے بھی اس پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ دلہا کو قریبا دو ہفتے قبل پیدا ہونے والے بیٹے سے بھی ملایا گیا۔

ھیناؤ کو توقع ہے کہ اسے سنائی گئی ڈیڑھ سال کی سزائے قید میں بھی نرمی کی جائے گی۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ جلد از جلد جیل سے رہا ہو اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گذارے۔ منفرد شادی کی تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی پرتکلف کھانوں سے تواضع کی گئی اور شادی کرنے والے جوڑوں نے روایتی کیک بھی کاٹے۔