ایران کیوبا کے ساتھ مضبوط قریبی دوطرفہ تعلقات کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے کہا ہے کہ وہ کیوبا کے ساتھ مضبوط قریبی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔یہ بات ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لاطینی امریکا کے دورے کے آغاز کے موقع پر کہی ہے۔

انھوں نے ہوانا میں کیوبن ہم منصب برونو روڈریگوز سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:''ہم ہمیشہ ظلم وجبر اور غیر منصفانہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے عظیم کیوبن عوام کے ساتھ رہے ہیں''۔

وہ امریکا کی جانب سے کیوبا پر پابندیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔دونوں ملکوں کے درمیان برسوں کی مخاصمت کے بعد گذشتہ سال ہی سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں لیکن اس تاریخی معانقے کے باوجود ابھی تک کیوبا پر 1962ء سے جاری امریکی پابندیوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

جواد ظریف نے امریکا کی ہمہ نوع پابندیوں کی مزاحمت کرنے پر کیوبا کی تعریف کی اور کہا کہ ہم کیوبا کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کا نئے سرے سے آغاز کرنے والے ہیں۔انھوں نے توانائی ،صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون کا حوالہ دیا۔

مسٹر روڈریگوز نے اس موقع پر کیوبا کی جانب سے امریکا اور دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے میں ایران کی حمایت کااظہار کیا اور کہاکہ ''ہم ایران کے خلاف ہرطرح کی پابندیوں اور یک طرفہ معاندانہ اور خاص طور مالیاتی شعبے میں اقدامات کی مخالفت جاری رکھیں گے''۔

جواد ظریف سرکاری عہدے داروں اور کاروباری حکام کے ایک بڑے وفد کے ساتھ لاطینی امریکا کے ملکوں کا دورہ کررہے ہیں۔کیوبا کے سرکاری میڈیا کے مطابق وہ بولیویا ،چلی ،ایکواڈور ،نکارا گوا اور وینزویلا کے دورے پر بھی جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں