ڈونلڈ ٹرمپ کلیدی ریاستوں میں پسپا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے مگر موجودہ انتخابی مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے نامزد کردہ صدارتی امیدار ڈونلڈ ٹرمپ ماضی کی نسبت پہلی بار نارتھ کیرولینا، جارجیا، انڈیانا اور میزوری جیسی ریاستوں میں پسپا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ابھی تک ان ریاستوں میں مہم چلانے کے لیے ٹی وی پر ایک ڈالر بھی پروپیگنڈے پر خرچ نہیں کیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ٹرمپ کو ان کلیدی ریاستوں کی جانب سے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاہم توقع ہے کہ رواں ماہ یا اگلے ایک ماہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کوئی نئی قلا بازی کھائیں گے اور خود کو ان ریاستوں میں بھی نمایاں کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم پر ٹی وی چینلوں پر اس لیے رقوم خرچ نہیں کررہے کیونکہ انہیں یہ مقصد پیسے لگانے کے بغیر بھی حاصل ہو رہا ہے۔ وہ کوئی ایک آدھ متنازع بیان جاری کرتی ہے جسے اگلے چوبیس گھنٹے تک امریکی ذرائع ابلاغ اس تواتر کے ساتھ نشر کرتے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے اشتہارات چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

گوکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے اب تک 12 ملین ڈالر کی رقم ٹرمپ کی حمایت میں ذرائع ابلاغ میں اشتہارات اور پروپیگنڈے پر صرف کی ہے۔ ان کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی صدارتی امیدوارہ ہیلری کلنٹن اب تک 61 ملین ڈالر کی رقم پھونک چکی ہیں۔ 43 ملین ڈالر اس کے علاوہ ہیں جو ہیلری کے حامیوں کی جانب سے ان کی حمایت میں پروپیگنڈے کے لیے خرچ کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صرف جولائی میں حامیوں سے 80 ملین ڈالر کی رقم جمع کی۔ ان کے مقربین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ٹی وی اشتہارات پر رقم لگانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پیسے خرچ کیے بنا ہی میڈیا پر چھائے رہتے ہیں۔

البتہ اس تاثر کی نفی نہیں کی جاسکتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کلیدی نوعیت کی ریاستوں میں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لیے میڈیا پر اشتہارات کی مد میں پیسہ خرچ کریں گے۔ تاہم وہ یہ فیصلہ انتخابات کے قریب آنے پرہی کریں گے۔ ماضی کے ادوار میں فلوریڈا، اوھایو، پنسلوینیا، میشیگن اور نیو ھمشائر ریاستیں کلیدی قرار دی گئی تھیں اور ان ریاستوں میں کامیاب ہونے والے امیدوار کی کامیابی کو یقینی سمجھا گیا تھا۔

کیلیفورنیا اور نیویارک میں حالیہ عرصے میں ڈیموکریٹس کی اکثریت رہی ہے جب کہ ٹکساس، جارجیا اور ایریزونا میں ری پبلیکن کو زیادہ پذیرائی حاصل رہی۔ امریکا میں صدارتی انتخابات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 10 ریاستیں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار کے لیے اہمیت کی حامل ہیں۔ دیگر چالیس ریاستوں کی اتنی اہمیت نہیں جتنی کہ ان دس ریاستوں کی بتائی جاتی ہے۔

تازہ سروے جائزوں کے مطابق اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی پوزیشن کافی مضبوط ہے اور وہ ڈنلڈ ٹرمپ سے کلیدی ریاستوں میں 10 نقات آگے ہیں۔ فلوریڈا جیسی ریاست میں ہیلری کو ٹرمپ پر 9 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، نیو ہمشائر میں 15 پوائنٹس، نارتھ کیرولینا میں 9 جب کہ مشیگن، ویسکونسن، کولوراڈو اور ورجینیا میں ہیلری کو 10 پوانٹ کی برتری ہے۔

انہی تمام ریاستوں میں ہیلری کو مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی بھی بھاری حمایت حاصل ہے۔ افریقی باشندں کی حمایت کا تناسب بھی ایک اور تین کے درمیان ہے جب کہ دیگر اقلیتوں کی 70 فی صد نمائندگی ہیلری کی حمایت کررہی ہے۔

جب سے امریکی اور عالمی اخبارات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے روس نوازسابق یوکرائنی صدر ویکٹوز ریانا کوفیچ کی طرف سے 13 ملین ڈالر کی رقم حاصل کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں ٹرمپ کی عوامی حمایت میں مزید کمی آگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں