کابل میں امریکی یونیورسٹی پر مسلح حملہ ،ایک ہلاک ،14 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسلح جنگجوؤں نے امریکی یونیورسٹی پر حملہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چودہ طلبہ زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں سے بعض حملے کے بعد فرار کی کوشش میں دوسری منزل سے گر کر زخمی ہوئے ہیں۔

جامعہ کے صدر مارک انگلش نے قبل ازیں امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ کابل کے مغربی حصے میں واقع جامعہ پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکار کیمپس میں پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے مشتبہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

عینی شاہدین نے جامعہ کی حدود سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔مسلح جنگجو مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام ساڑھے چھے بجے جامعہ میں گھسے تھے اور ان کے دھاوے کے بعد بیسیوں طلبہ اور اساتذہ عمارت میں محصور ہو کر رہ گئے۔بہت سے طلبہ جانیں بچانے کے لیے دوسری منزل سے نیچے کود گئے اور وہ اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان صدق صدیقی کا کہنا تھا کہ پولیس اور انٹیلی جنس اہلکار کیمپس میں موجود ہیں اور پولیس کو یقین ہے کہ حملہ آور صرف ایک ہی ہے مگر بعد میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد ایک سے زیادہ ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس پرائیویٹ یونیورسٹی پر اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن طالبان مزاحمت کار ماضی میں کابل میں غیر ملکی سفارت خانوں اور سرکاری اداروں کی عمارتوں پر اسی انداز میں حملے کرتے رہے ہیں۔

امریکی یونیورسٹی پر اس حملے سے دو ہفتے قبل نامعلوم مسلح افراد نے جامعہ کے دو غیرملکی پروفیسروں کو ان کی کار سے اتار کر کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔اس کے بعد سے ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں