ترکی : مزید 2800 سے زیادہ جج اور پراسیکیوٹرز برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی میں حکومت نے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت اور گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں مزید اٹھائیس سو سے زیادہ ججوں اور پراسیکیوٹرز کو برطرف کردیا ہے۔

ترک حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے فوج ،عدلیہ اور سرکاری محکموں میں امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف تطہیر کا عمل شروع کر رکھا ہے۔اس دوران اسی ہزار سے زیادہ ملازمین اور فوجیوں کو برطرف یا معطل کیا جاچکا ہے۔ان کے علاوہ سترہ ہزار سے زیادہ ملازمین اور گولن تحریک سے وابستہ افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے فتح اللہ گولن پر ترکی اور بیرون ملک میں اسکولوں کا نیٹ ورک ،خیراتی اور کاروباری ادارے قائم کرنے کا الزام عاید کیا ہے تاکہ ان کے ذریعے سرکاری اداروں میں دراندازی کی جاسکے اورملک پر کنٹرول کے لیے ایک متوازی ڈھانچا تشکیل دیا جا سکے۔

انھوں نے اسی ماہ اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ فتح اللہ گولن سے وابستہ کاروباروں کے مالی ذرائع کو منقطع کردیا جائے گا۔انھوں نے اس کو ''دہشت گردی کے گھونسلے'' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے قلع قمع کے عمل میں کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔

مغربی ممالک صدر ایردوآن کی حکومت کے بعد از ناکام فوجی بغاوت اقدامات پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے حکومت مخالفین کے خلاف تطہیر کا عمل شروع کررکھا ہے مگر بہت سے ترک اہل مغرب کی جانب سے متشدد فوجی بغاوت میں ملوث افراد کے خلاف سخت ردعمل ظاہر نہ کرنے پر سخت غم وغصے کا اظہار کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں