عراقی جنگجو کا سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کی سازش کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا ابو الفضل العباس کے سربراہ اوس الخفاجی نے تسلیم کیا ہے کہ ہے بغداد میں متعین سعودی عرب کے سفیر ثامر السبھان پر قاتلانہ حملے کی سازش میں الحشد الشعبی شامل ہے۔ جنگجو کا کہنا ہے کہ سعودی سفیر ایک اشتہاری شخص ہے اور اس پر قاتلانہ حملہ باعث فخر ہے۔ عراقی جنگجو اوس الخفاجی کا کہنا ہے کہ سعودی سفیر السبھان کی عراق دشمنی واضح ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ عراق میں شیعہ فرقہ پراست عناصر پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجوؤں نے سعودی عرب کے عراق میں متعین سفیر ثام السبھان کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس کے علاوہ خراسان بریگیڈ نامی ایک تنظیم نے بھی اعتراف کیا کہ انہوں اس کے جنگجوؤں نے ایرانی انٹیلی جنس افسران کی منصوبہ بندی کے تحت سعودی سفیروں کے قتل کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عراق میں سعودی سفیر ثامر السبھان نے کہا کہ شدت پسند فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی طرف سے قتل کی دھمکیوں کے باوجود وہ بغداد میں اپنی سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مشن عراقی قوم کی فلاح وبہبود اور اس کی معاونت ہے۔ اس کے لیے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں