’ایرانی فوجی اڈہ بدستور روسی فوج کے زیراستعمال‘

ایرانی فوجی اڈے کے روسی استعمال پرامریکا کو خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ روس اب بھی شام میں کارروائیوں کے لیے ملک کے جنوبی شہر ہمدان میں قائم ایک فوجی اڈے کو استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کے اس موقف کی سختی سے تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ روس نے ایران کے فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کا سلسلہ بند کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ روس کا ایران میں اب کوئی اڈہ نہیں اور نہ ہی روسی فوج ایران کے کسی مقام پر متمرکز ہے۔ روس کو مختصر قیام کے لیے اجازت دی گئی تھی اور اب ماسکو کا ایران میں کوئی اڈہ نہیں ہے۔

تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے اپوزیشن کے ایک رکن کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض کے جواب میں ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور ہم خطے کے مسلمانوں کے مسائل سے مل کر نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی وزارت خارجہ نے بھی ایرانی فوجی اڈوں کو شام میں کارروائی کے لیے روسی فوج کے زیراستعمال نہ لائے جانے کی خبروں پر شبے کا اظہار کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر روس نے ایران کے فوجی اڈوں کو شام میں کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہوگا۔

ادھر دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ میں روس کو ھمدان کا ایک فوجی اڈہ شام میں کارروائیوں کے لیے دیے جانے کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ گذشتہ روز پارلیمنٹ کےاجلاس کے دوران بھی روس کو فوجی اڈہ دینے کے حامیوں اور مخالفین میں نوک جھونک جاری رہی۔ اس موقع پر وزیر دفاع حسین دھقان کے بیان پر لاریجانی نے کہا کہ ایوان میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع کو اخلاقی آداب اور قرینوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

قبل ازیں وزیردفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ھمدان کا فوجی اڈہ روس کو دینے کا فیصلہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کیا تھا جس کا پارلیمنٹ سے کوئی لینا دینا نہیں۔

روس کو فوجی اڈہ دیے جانے پر ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے کہا کہ 20 ارکان پارلیمنٹ نے ھمدان کا فوجی اڈہ روسی فوج کو دیے جانے کے معاملے پر خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں