ترکی امریکا رنجش کے کئی ہفتوں بعد بائیڈن انقرہ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نائب صدر جو بائیڈن خطے کے دورے کے سلسلے میں بدھ کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے۔ ادھر ترک ٹی وی چینلوں کے مطابق ترکی کی افواج نے شدت پسندوں کے انسداد کے بین الاقوامی اتاحد کے تعاون سے شام میں کارروائی شروع کر دی ہے۔

جو بائیڈن 15 جولائی کو انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد ترکی کا دورہ کرنے والی اعلی ترین مغربی ذمہ دار ہیں۔ وہ اس دورے میں دنوں حلیف ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان تعلقات میں انقرہ کی جانب سے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن پر انقلاب کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرنے کے سبب بگاڑ آ گیا تھا۔

ترکی کی جانب سے امریکا سے گولن کو حوالے کرنے کا مطالبہ جاری رہا۔ گولن اس امر کی تردید کرچکے ہیں کہ انہوں نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت گرانے کے لیے انقلاب کی کوشش کا حکم دیا۔

جو بائیڈن ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم اور صدر ایردوآن سے بھی ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں شامی بحران کے حوالے سے بھی بات چیت ہوگی۔

واشنگٹن نے انقرہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شبہات کی بات کرنے کے بجائے انقلاب کی کوشش میں گولن کا ہاتھ ہونے کے ثبوت فراہم کرے۔ اس کے نتیجے میں دونوں دارالحکومتوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

تُرک ذمہ داران پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ گولن کو حوالے نہ کرنے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بڑی صورت میں نقصان پہنچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں