سعودی عرب : ریستوراں پر دہشت گردی کے حملے کی سازش ناکام

قطیف میں مسجد میں خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والا پاکستانی نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز ایک مصروف ریستوراں پر دہشت گردی کے ایک اور حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔قبل ازیں مشرقی صوبے میں ایک مسجد پر حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ''ایک سعودی اور ایک شامی مشرق صوبے میں واقع جزیرے تاروت میں ایک ریستوراں میں خودکش بم دھماکا کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی اس سازش کو چند گھنٹے قبل ہی ناکام بنا دیا گیا ہے''۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے بتایا ہے کہ تاروت ریستوراں میں مقامی سیاحوں کی بڑی تعداد روایتی کھانے کھانے کے لیے آتی ہے۔وزارت نے دونوں ممکنہ خودکش بمباروں کے نام بھی جاری کردیے ہیں۔سعودی کا نام عبداللہ عبدالرحمان الغنیمی اور سعودی کانام حسین محمد علی ہے۔

اس سے پہلے دو غیرسعودیوں نے مشرقی صوبے میں واقع شیعہ اکثریتی شہر قطیف کے نزدیک واقع ایک گاؤں ام الہمام میں مسجد میں خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔

حکام کے مطابق مسجد رسول الاعظم میں خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والے حملہ آور نے ایک دھماکا خیز بیلٹ پہن رکھی تھی لیکن سعودی سکیورٹی فورسز نے اس کو ہلاک کردیا ہے۔وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔

ان دونوں ناکام خودکش بم حملوں سے قبل جولائی میں سعودی عرب میں چار خودکش بم دھماکے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک بمبار میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے نزدیک دھماکا کیا تھا۔قلطیف میں دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے جبکہ جدہ میں ایک بمبار نے امریکی قونصل خانے کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں