مصر میں گندم کے کاغذی اسکینڈل پر وزیر رسد مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں صدر عبدالفتاح السیسی کے 2014ء میں برسراقتدار آنے کے بعد بدعنوانی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے اور اس کی وجہ سے رسد (سپلائی) کے وزیر خالد حنفی مستعفی ہوگئے ہیں۔

مصر کے سپلائی کے وزیر قومی خزانے سے غذائی اجناس پر دیے جانے والے زرتلافی (سب سڈی) پروگرام اور اجناس کی خریداری کے ذمے دار سرکاری ادارے جنرل اتھارٹی برائے سپلائی کماڈیٹیز (جی ای ایس سی) کے انچارج تھے۔

خالد حنفی نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''تجربے نے ثابت کیا ہے کہ کسی عہدے پر فائز ہونا اب کوئی پکنک نہیں رہا ہے''۔

مصری پارلیمان نے گندم کے ذخائر کے اس بڑے فراڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ بیس لاکھ ٹن گندم یا مقامی طور پر ذخیرہ کی گئی 40 فی صد جنس غائب غلہ ہوسکتی ہے۔

جنرل پراسیکیوٹر نے اس اسکینڈل میں ملوّث نجی گوداموں کے متعدد مالکان اور دوسرے افراد کو گرفتار کرنے ،ان پر سفری پابندیوں اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ان گوداموں کے مالکان نے قومی خزانے سے رقوم اینٹھنے کے لیے کاغذوں میں اپنے گوداموں میں زیادہ گندم موجود دکھائی تھی لیکن ارکان پارلیمان کے چھاپوں کے دوران وہاں کہیں کم مقدار میں گندم برآمد ہوئی ہے۔

مصر دنیا میں گندم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔مصری حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس سال کی فصل میں سے قریباً پچاس لاکھ ٹن گندم گوداموں میں ذخیرہ کی تھی لیکن بعد میں غلّے کے ان ذخائر کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے اور اس کی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ اس میں سے گندم کی بھاری مقدار صرف کاغذوں ہی میں موجود تھی کیونکہ مقامی سپلائیرز نے حکومت سے جعلی رسیدوں کے ذریعے زر تلافی کی مد میں دی جانے والی رقوم وصول کرلی تھیں۔

اگرچہ خالد حنفی زرتلافی کے لیے مختص رقوم اینٹھنے اور ان سے منافع خوری کے اس اسکینڈل میں براہ راست ملوث نہیں ہیں لیکن حالیہ ہفتوں کے دوران ارکان پارلیمان ،صنعت سے وابستہ حکام اور میڈیا کے تبصرہ نگاروں نے انھیں ہی اس تمام فراڈ کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

مصر کی سب سے بڑی نجی ملز ''مصری ملرز کمپنی'' کے مینجنگ ڈائریکٹر ولید دیاب کا کہنا ہے کہ ''حنفی نے بڑے مضبوط انداز میں آغاز کیا تھا لیکن بد قسمتی سے انھوں نے وزارت چلانے والے غلط لوگوں پر اعتماد کیا۔ان لوگوں کا اپنا مالی مفاد تھا اور اس وجہ سے سب سڈی کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے''۔

مصر میں زرتلافی کی مد میں کروڑوں ڈالرز کے نقصان کا یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت معیشت کی بحالی کے لیے مختلف مدوں میں دیے جانے والے زرتلافی کو ختم کررہی ہے اور وہ یہ سب اقدامات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بارہ ارب ڈالرز کے قرضے کے حصول کے لیے طے شدہ شرائط کے تحت کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں