.

ترکی اور اسد رجیم کے درمیان مفاہمت کے لیے پس چلمن بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں لچکدار موقف سامنے آنے کے بعد انکشاف ہواہے کہ انقرہ حکومت مفاہمت کے لیے اسد رجیم سے بالواسطہ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تُرکی کی سیاسی جماعت ’’وطن‘‘ کے رُکن پارلیمنٹ اور سابق سفیر اسماعیل حقی تکین نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ترک حکومت بشار الاسد کے ساتھ مفاہمت کے لیے پس چلمن بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

پین عرب روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حقی تکین نے کہا کہ انقرہ اور دمشق حکومتوں کےدرمیان بالواسطہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور شام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ایران کا کلیدی کردار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسماعیل حقی تکین نے کہا کہ ہم ’وطن‘ پارٹی کی جانب سے گذشتہ مئی کے بعد پانچ بار دمشق کے دورے پر گئے ہیں۔ شام کے دورے کے دوران ہماری ملاقاتیں بشار الاسد اور ان کی حکومت کے سرکردہ عہدیداروں کے ساتھ ہوئی ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سابق ترک سفارت کار کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے ساتھ بات چیت میں سیاسی، سیکیورٹی، تجارتی اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترک حکومت کے مندوبین کی شامی حکومت کے ساتھ براہ راست کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے تاہم انٹیلی جنس حکام نے بھی بالواسطہ طور پر مذاکرات کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک میٹنگ ایران میں بھی ہوچکی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شامی حکومت اور ترکی ماضی کی طرح تعلقات کی بحالی پر متفق ہوسکتے ہیں تو اسماعیل حقی کا کہنا تھا کہ ایسا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی ایک قدم آگے بڑھے گا تو بشارالاسد چار قدم بڑھنے کو تیار ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق ترک سفارت کار کے انکشاف سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ بھی ترکی اور دمشق کے درمیان قربت کی کوششوں کی خبریں شائع کرچکےہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں خبر دی تھی کہ اسماعیل حقی تکین شام کی حکمراں البعث پارٹی کے دوسرے اہم ترین رہ نما عبداللہ الاحمر، شامی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی مملوک، وزیرخارجہ ولید المعلم اور نائب وزیرخارجہ فیصل المقداد سے بھی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

ایرانی ایوان صدر کی مقرب فارسی نیوز ویب پورٹل "آفتاب" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق فوجی اور سفارت کار جنرل تکین نے دمشق حکام سے بات چیت میں کہا کہ ترکی بشار الاسد کو مستقل طور پر اقتدار میں رہنے کے حق میں نہیں تاہم موجودہ حالات میں انقرہ شام کی تقسیم روکنے کے لیے بشارالاسد کو عبوری صدر کے طورپر قبول کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام میں وفاقی نظام حکومت کے قیام کے لیے ترکی تعاون کرے گا۔ کیونکہ اس وقت شامی کرد آبادی کا بھی یہی مطالبہ ہے۔

خیال رہے کہ جنرل تکین ترکی کے ایک ممتاز سفارت کار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سنہ 1998ء میں اضنہ کے مقام پر ترکی اور شام کےدرمیان معاہدہ کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ معاہدہ اس وقت ہوا تھا جب ترکی میں علاحدگی پسند کرد لیڈر عبداللہ اوگلان کی وجہ سے ترک حکومت سخت مشکل سے دوچار ہوگئی تھی۔

جنرل حقی تکین ماضی میں انٹیلی جنس کے ڈیپٹی چیف بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 2011ء میں انہیں حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تاہم سنہ 2013ء میں رہا کردیا گیا تھا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل اسماعیل حقی تکین نے 27 مئی 2016ء کو شام کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ ترکی اور دمشق کے درمیان تعطل کا شکار رابطے بحال کرنے کی ایک نئی کوشش تھی۔ اس کے علاوہ ان کی ایرانی سینیر حکام کے ساتھ الجزائر میں بھی ملاقات ہوچکی ہے۔