.

داعش نے مصری پولیس اہلکار سرعام گولیوں سے بھون ڈالا

انتہا پسند تنظیم نے احمد حمدان کو مرتد قرار دے کر العریش میں قتل کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں داعش کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پیٹرولنگ پولیس اہلکار کی دردناک ہلاکت کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے کے بعد مقتول کے گھر صف ماتم بچھ گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ستائیس سالہ احمد سلامہ حمدان کو تین روز قبل 'عاطف سادات' کے علاقے میں دوران ڈیوٹی اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لیجایا گیا جس کے تین دن بعد العریش کے شمالی صحرائی علاقے میں گولیوں سے چھلنی اس کی نعش ملی۔

جمعرات کے روز احمد سلامہ حمدان کی دردناک موت کی خبر کے تفصیل اس وقت سامنے آئی جب اسے نامعلوم قاتلوں نے سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا اور پھر اس کی لاش 'المساعید' کے علاقے میں پھینک گئے جہاں سے العریش پولیس ریجن کے اہلکاروں نے اسے ہسپتال منتقل کیا۔

پولیس تحقیقات کے مطابق احمد سلامہ حمدان کو منگل کے روز انصار بیت المقدس نامی تنظیم کے کارکنوں نے قتل کیا۔ تنظیم نے نومبر 2014 میں ریکارڈ شدہ آڈیو پیغام کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کے بعد اپنا نام 'ولایہ سیناء' رکھ لیا تھا۔

'ولایہ سیناء' نے ٹویٹر پر #دولت_اسلامیہ 'ہیش ٹیگ' پر حمدان کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کی تصاویر جاری کیں تھیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی انہیں تصاویر کو جاری کر رہا ہے۔ ہیش ٹیگ پر تصویر کے نیچے جاری کردہ تفصیل میں حمدان کو 'مرتد' قرار دیتے ہوئے قتل کرنا ان کے دردناک انجام کی وجہ بتایا گیا ہے۔

ٹویٹر پر جاری کردہ پانچ تصاویر اور مقتول کے محکمانہ کارڈ پر درج تفصیلات میں اسے العریش کی "صقل" کالونی کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ دو تصاویر میں منہ پر ماسک چڑھائے ایک نامعلوم شخص پستول کے فائر کر کے زمین پر گرے حمدان پر گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔