تیونس: نئی قومی حکومت پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تیونس کی پارلیمان نے کثرت رائے سے وزیراعظم یوسف شاہد کی سربراہی میں تشکیل پانے والی نئی قومی حکومت کی منظوری دے دی ہے۔

پارلیمان میں رائے شماری کے وقت موجود اراکین میں سے 167 نے نئی کابینہ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔22 نے اس کی مخالفت کی ہے اور پانچ غیر حاضر رہے ہیں۔چالیس سالہ یوسف شاہد تیونس کے کم عمر ترین وزیراعظم ہوں گے اور ان کی قیادت میں کابینہ آیندہ چند روز میں امور مملکت سنبھالے گی۔

نئی کابینہ کے پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ملک میں گذشتہ تین ماہ سے جاری سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔تیونسی صدر باجی قائد السبسی نے جون میں کہا تھا کہ وہ قومی اتحاد کی نئی حکومت کی حمایت کریں گے۔

انھوں نے اگست کے اوائل میں اپنی جماعت ندا یونس سے تعلق رکھنے والے یوسف شاہد کو نامزد کر کے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ان کے پیش رو وزیراعظم حبیب الصید پارلیمان کا اعتماد کھو بیٹھے تھے اور اراکین نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کر کے انھیں چلتا کیا تھا۔

یوسف شاہد گذشتہ چھے سال میں تیونس کے ساتویں وزیراعظم ہیں۔ان کی کابینہ میں اسلامی جماعت النہضہ سمیت تمام جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔کابینہ میں آٹھ خواتین شامل ہیں اور انھیں اہم وزارتوں کے قلم دان سونپے گئے ہیں۔باقی وزراء میں چودہ نوجوان ہیں۔

سابق وزیراعظم حبیب الصید کو ملک کو درپیش اقتصادی اور سماجی مسائل حل نہ کرنے کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا رہا ہے اور حکمراں جماعت ندا تیونس میں اتھل پتھل اور صدر باجی قائد السبسی کے دباؤ کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور کافی ہوگئی تھی۔اب نئے وزیراعظم یوسف شاہد کی حکومت کو ملکی معیشت کی بحالی ،سکیورٹی کی خراب صورت حال ،بے روزگاری اور سماجی مسائل ایسے چیلنجز درپیش ہیں۔

یادرہے کہ تیونس میں 2014ء میں منعقدہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں سیکولر جماعت نداتیونس نے برتری حاصل کی تھی اور اس نے دوسو سترہ میں سے نواسی نشستیں حاصل کی تھیں۔النہضہ انہتر نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ ندا تیونس نے النہضہ اور دو چھوٹی لبرل جماعتوں کے ساتھ مل کر حبیب الصید کی سربراہی میں حکومت بنائی تھی۔

سنہ 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ انقلابات کے بعد تیونس ہی واحد ملک ہے جہاں کامیابی سے پارلیمانی جمہوریت معرض وجود میں آئی تھی اور پُرامن طور پر انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں وسیع تر معاشی اصلاحات روبہ عمل نہیں لائی جاسکی ہیں جس کی وجہ سے معاشی مسائل حل ہوئے ہیں اور نہ عوام کو انقلاب کے ثمرات نصیب ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں