.

یمنی باغی تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے دوبارہ منظم ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج نے اطلاع دی ہے کہ حوثی باغی اور علی صالح ملیشیا مل کر آزاد کرائے گئے شہر تعز کا دوبارہ محاصرہ توڑنے کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔ حکومتی فوج کا کہنا ہے کہ باغیوں نے تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے دوبارہ کمک جمع کرانا شروع کردی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر سمیر الحاج نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یمنی فوج اور مزاحمتی ملیشیا نے عرب اتحادی طیاروں کی فضائی معاونت سے مختلف محاذوں پر باغیوں کے خلاف فاتحانہ پیش قدمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کی طرف سے تعز کی مغربی گذرگاہ پر دوبارہ قبضے کے لیے وحشیانہ گولہ باری کی گئی تھی مگر فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز باغیوں سے چھڑائے گئے علاقے دوبارہ ان کے قبضے میں نہیں جانیں دیں گے۔

بریگیڈیئر سمیر الحاج نے کہا کہ حوثی باغی اور مںحرف سابق صدر علی صالح کے وفادار تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے دبارہ طاقت جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں سعودی عرب کی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے یمنی باغیوں کی سرحدی دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام بناتے ہوئے باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔ سعودی سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے قریب یمنی باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں باغیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تعز اور نھم کے محاذوں پر بھی باغیوں کو حکومتی فورسز کے حملوں میں بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔