.

یمنی حوثی اپنے میزائلوں سے دستبردار ہونے سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے اپنے بیلسٹک میزائلوں سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔اس طرح انھوں نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے تنازعے کے حل کے لیے پیش کردہ امن تجویز کو بھی مسترد کردیا ہے۔

ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کے مطابق حوثیوں نے ایک ہفتے کے روز ایک بیان میں لڑائی کے لیے درکار حربی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔البتہ انھوں نے جان کیری کے مجوزہ امن اقدام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جان کیری نے دو روز پہلے جدہ میں سعودی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بعد یمن میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام پر زوردیا تھا جس میں حوثی ملیشیا بھی شامل ہو۔اس میں حوثیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صنعا کو خالی کردیں اور ہتھیار حکام کے حوالے کردیں۔

حوثیوں کے ان ہتھیاروں میں بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں جو جان کیری کے بہ قول سعودی عرب کے علاوہ پورے خطے اور امریکا کے لیے خطرہ ہیں۔

درایں اثناء یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل سمیر الحاج نے کہا ہے کہ فوج نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اتحادی فورسز نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے تعز شہر کے مغربی داخلی دروازے کی جانب واقع کوہ ہان پر ایک بھرپور حملہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز صوبہ تعز کے نواح میں بھاری ہتھیار نصب کررہی ہیں۔اس کا مقصد شہر کو ایک مرتبہ پھر محاصرے میں لینا ہے۔

یمن کی سرکاری فورسز نے حالیہ دنوں میں ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز سے حوثی شیعہ باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے ایک بڑی فوجی حملہ کیا ہے اور ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری محاصرے کو ختم کرا لیا ہے۔