.

الجزائر:شادی کی تقریب ماتم میں تبدیل

رخصتی سے کچھ دیر قبل دلہن کی وفات نے کہرام برپا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امام شافعی نے کہا تھا کہ ’’کتنی ہی دلہنیں اپنے شوہروں کے لیے بناؤ سنھگار کرتی ہیں مگر موت صبح ہونے سے قبل ہی ان کی روح قبض کر لیتی ہے‘۔

صدیوں پرانے اس شہر کا مصداق ایک واقعہ حال ہی میں افریقا کے عرب ملک الجزائر میں پیش آیا جہاں عین رخصتی سے چار گھنٹے قبل 27 سالہ دلہن پیا گھر سدھارنے کے بجائے خالق حقیقی سے جا ملی۔ اس واقعے نے دونوں خاندانوں، دلہن اور دلہا کے تمام دوست احباب کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔

الجیرین اخبار ’’الشروق‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شادی کی تقریب ماتم میں اس وقت تبدیل ہو گئی جب اچانک یہ خبر ملی کی دلہن کی طبیعت ناساز ہو گئی ہے۔ کچھ ہی لمحات کے بعد اس کی موت کی تصدیق ہو گئی تو شادی کی خوشیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ جہاں کچھ دیر قبل شادی کی خوشی میں روایتی نغمے گائے جا رہے تھے وہاں پر آہ بکا تھی اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے لوگ قرآن خانی میں مشغول تھے۔

دلہا کے گھر میں یہ خبر اس وقت پہنچی جب وہ بارات کے قافلے میں جانے والی گاڑیوں کو پھولوں سے سجا رہے تھے۔ یہ خبر دلہا اور اس کے اہل خانہ پر بھی بجلی بن کر گری۔ دلہا اور اس کے گھر والے دلہن کے گھر توآئے مگراسے لینے کے لیے نہیں بلکہ اس کی تدفین میں شرکت کے لیے پہنچے جہاں ہر آنکھ اشک بار تھی۔

لڑکی کے اہل خانہ نے بتایا کہ اس نے اچانک اپنے دل میں تکلیف کی شکایت کی۔ اس پراسے اسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی مگر وہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ڈاکٹروں کے مطابق لڑکی کی موت حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوئی ہے۔

موت سے کچھ دیر قبل لڑکی نے اپنے ہونے والے شوہر کو موبائل پر اس کے بھیجے گئے پیغام کے جواب میں لکھا تھا کہ سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ دلہا نے اسے پوچھا تھا کہ بارات کے حوالے سے اس کے اہل خانہ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ بتائیں۔ اس کے جواب میں دلہن کا مختصر پیغام زندگی کا آخری پیغام ثابت ہوا۔ شادی کی مبارک باد دینے کے لیے آئے رشتہ دار اب اس کے والدین کو پرسہ دینے پر مجبور تھے۔ شاید اسی لیے مشہور ہے کہ ’جہاں شہنائی بجتی ہے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں‘۔