.

ایران : جوہری مذاکرات کار جاسوسی کےالزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کو جاسوسی کے شُبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے اتوار کو اپنی ہفتہ وار نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ''مشتبہ شخص کو چند روز تک جیل میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے لیکن ابھی اس کے خلاف تحقیقات جاری ہے''۔

ترجمان نے اس مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک جاسوس تھا اور جوہری ٹیم میں درانداز ہوگیا تھا۔محسن اعجئی ایرانی پارلیمان کے ایک رکن کے گذشتہ ہفتے کے ایک بیان کے حوالے سے سوال کا جواب دے رہے تھے۔

اس رکن نے کہا تھا کہ دُہری شہریت کے حامل مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کو جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔تہران کے پراسیکیوٹر جنرل نے 16 اگست کو اس مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا برطانوی انٹیلی جنس سے تعلق تھا لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کا جوہری مذاکرات کرنے والی ٹیم سے بھی کوئی تعلق تھا۔

محسن اعجئی نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ گرفتار شخص کسی اور ملک کا بھی شہری ہے۔برطانیہ نے 16 اگست کو کہا تھا کہ وہ دُہری شہریت کے حامل اس گرفتار شخص کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔