.

ترکی کے دیار بکر ہوائی اڈے پر میزائل حملہ

حکومت مخالف کردستان ورکرز پارٹی پر حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیاربکر ہفتے کی شب میزائل حملہ کیا گیا، تاہم علاقے کے گورنر حسین اکسوی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اس حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اس حملے کا الزام علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی پر عائد کیا ہے۔ گورنر کا مزید کہنا تھا کہ "حملہ آوروں کی تلاش کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔"

"ودغان" نامی خبر رساں ایجنسی نے اس سے قبل ایک ڈسپیچ میں بتایا تھا کہ کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں نے دیار بکر ہوائی اڈے پر چار میزائل داغے تاہم ان سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ باغیوں کی جانب سے فائر کئے جانے والے میزائل ہوائی اڈے پر پولیس کی ایک چیک پوسٹ کے قریب خالی علاقے میں گرے جس سے زوردار دھماکا ہوا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز سن کر پولیس اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے تاہم ان میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

رپورٹ کے مطابق میزائل حملے کے بعد ہوائی اڈے کو جانے والے راستے بند کر دیئے گئے اور وقتی طور پر ائرپورٹ کو پروازوں کے لئے بند کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ یہ میزائل حملہ کردستان ورکرز پارٹی کی جانب سے شامی سرحدی علاقے جیزری میں کئے جانے والے خودکش حملے کے بعد ہوا ہے۔ جیزری حملے میں گیارہ پولیس اہلکار موت سے ہمکنار ہوئے۔

ترکی کا جنوب مشرقی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور کردستان ورکر پارٹی کے باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ برس موسم گرما کے بعد سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں 1984 سے ابتک چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔