.

ناروے : بھرتی خواتین اور مرد فوجی ایک ہی جگہ محوِ خوابِ خرگوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا 4 روز قبل ایک خبر منظرعام پر آئی تھی جو عرب میڈیا میں کوریج نہ پاسکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نیوز ایجنسیوں نے بھی اس خبر کو اختصار کے ساتھ نشر کیا۔ یہ خبر ناروے میں 18 سے 40 برس کی خواتین کے لیے فوج میں عسکری خدمت لازمی قرار دیے جانے سے متعلق تھی۔ اس سلسلے میں خواتین کو مردوں کو ملنے والے تمام حقوق حاصل ہوں گے اور خواتین کی ذمہ داریاں بھی مردوں والی ہوں گی۔ برابری کا عالم یہ ہے کہ عسکری کیمپوں اور بیرکوں میں خواتین کو مشترکہ کمروں میں مردوں کے ساتھ ہی سونا پڑے گا۔ ناروے کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز ایک ترمیم منظور کی جس کے تحت خواتین کو عسکری خدمت کا پابند کیا گیا ہے۔

اس ترمیم کے ساتھ 50 لاکھ آبادی والا ناروے یورپ اور نیٹو کے ارکان میں وہ واحد ملک بن گیا ہے جہاں خواتین کے لیے عسکری خدمت لازمی ہے۔ ہوسکتا ہے ناروے دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہو جہاں کی فوج میں دونوں صنفیں ایک ہی جگہ سوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ایسے موقع پر انسان کے ساتھ بدیہی لوازمات بھی ہوتے ہیں جن میں نہانا دھونا اور کپڑے تبدیل کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

ناروے کے ایک مقامی چینل نے وزیر دفاعAnne-Grete Stroem-Erichsen کے حوالے سے بتایا ہے کہ "عسکری خدمت کو صرف مردوں پر رکھنا یہ ناروے کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے کہ ملکی قانون میں تمام شہریوں کے لیے حقوق اور فرائض موجود ہیں۔ صرف مردوں کو عسکری خدمت کا پابند بنانا یہ ناروے کے آئین کی روح کے منافی ہے۔ معاشرے کے نصف حصے کو شرکت سے دور رکھنے کا نتیجہ ملک کی دفاعی قدرت میں کمی کی صورت میں نکلے گا"۔

ایک دوسرے چینل tv2 Nyhetene نے وزیر دفاع کے حوالے سے اضافہ کیا کہ " ترمیم کا مطلب تمام خواتین کو پابند کرنا ہر گز نہیں بلکہ وہ خواتین جن کے لیے تربیتی سلسلے میں شرکت کے بعد منظوری دی جائے گی۔ ہمیں اس وقت سالانہ دونوں جنسوں سے 8 سے 10 ہزار اہل کاروں کی ضرورت ہے۔ ہم تمام خواتین کو عسکری خدمت کا پابند نہیں بنا رہے اس لیے کہ ہم کثرت تو چاہتے ہیں مگر دونوں قسم کی"۔

چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 1980ء میں فوج کی جانب سے رضاکارانہ بھرتی کے آغاز کے بعد سے رضاکار خواتین جن میں اکثریت سنہرے بالوں اور نیلی یا سبز آنکھوں والی ہے، ناروے کی مسلح افواج میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں"۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناروے کے 5 وزیر دفاع میں سے 4 خواتین ہیں۔ مجموعی فوجی اہل کاروں میں ناروے کی خواتین کی نمائندگی اس وقت صرف 9% ہے۔ اس سلسلے میں ہدف یہ رکھا گیا ہے کہ سال 2020ء تک فوج میں خواتین کی شرح 20% تک پہنچا دی جائے گی۔

ناروے کی فوج اس نوعیت کی ہے کہ اسے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ فوج کا معتدل ساز و سامان اور اس کا امن پسند مزاج ہے۔ ناروے کی فوج گزشتہ صدی میں دونوں عالمی جنگوں میں شریک ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ وہ امریکا اور سابق سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ میں امریکا کی حلیف بھی رہی۔

ناروے کے فوجی افغانستان میں حالیہ اتحادی فورسز میں بھی شریک ہیں۔ اس فوج کی بنیاد 1628ء میں رکھی گئی۔ ناروے کی فوج میں تنخواہوں کی سطح دنیا کی بلند ترین سطحوں میں سے ہے۔