.

ایرانی رہبر کا 'سہولت کار' افغانستان میں دھر لیا گیا

قربان غلامپور پر شام کی جنگ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حال ہی میں پولیس نے صوبہ ھرات سے ایک ایرانی ایجنٹ قربان غلامپور کو حراست میں لیا ہے۔ زیرحراست ایرانی پر الزام ہے کہ وہ خود بھی شام کی جنگ میں بشار الاسد کی وفاداری میں لڑتا رہا ہے اور اب وہ افغانستان میں شام کی جنگ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے مشن میں مصروف تھا۔

افغان ذرائع ابلاغ بالخصوص "جمہور" نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کارندہ خاص کو دو ہفتے قبل ہرات سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے مزید تفتیش کے لیے کابل منتقل کردیا گیا ہے۔

گرفتار ایرانی ایجنٹ کی شناخت قربان غلامپور کے نام سے کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا کے کہ غلامپور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور عراق کے آیت اللہ علی سیستانی سمیت تین اہم شیعہ لیڈروں کے ماہانہ تقسیم کنندہ کے طور پر کام کر رہا تھا۔

افغان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ قربان غلامپور نامی ایرانی کی گرفتاری افغانستان میں شام کی جنگ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں عمل میں لائی گئی تاہم اس حوالے سے افغانستان اور ایرانی حکام خاموش ہیں۔

ایرانی رجیم کے مقرب ذرائع ابلاغ اور تنظیموں کی طرف سے قربان غلامپور کی گرفتاری کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ تہران میں قائم عالمی اہل بیت فورم کے رکن حسن اختری نے غلامپور کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی اخبار "کیھان" کے مطابق خامنہ ای کے مندوب کی گرفتاری افغانستان میں ایرانی مذہبی رہ نماؤں پر دباؤ ڈالنے کا ایک نیا حربہ ہے۔

خیال رہے کہ ایران پر الزام ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے شہریوں کو افغانستان کی جنگ میں جھونکنے کی مسلسل سازشیں کررہا ہے۔ سنہ 2014ء میں ایران نے پاسداران انقلاب کے زیراہتمام ’فاطمیون‘ نامی ایک عسکری تنظیم قائم کی تھی جس میں ایران میں پناہ گزین افغان شہریوں کو ماہانہ 500 ڈالر تنخواہ پر شام کی جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔