.

الجزائر کی سرحد کے نزدیک مسلح حملے میں تین تیونسی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں مسلح جنگجوؤں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پر راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا ہے اور فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں تین فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

تیونسی فوج کے ترجمان بالحسن اوسلطی نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں بارودی سرنگ نصب کررکھی تھی جس سے فوج کی ایک بکتربند گاڑی تباہ ہوگئی۔پھر جنگجوؤں نے اس میں سوار فوجیوں پر فائرنگ شروع کردی اور ان پر راکٹ برسائے۔صمامہ کے پہاڑی علاقے میں اس حملے کے بعد جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان مسلح جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ تیونس کے جبل شعانبی کے علاقے میں القاعدہ سے وابستہ عقبہ بن نافع گروپ کے جنگجو موجود ہیں۔اس میں پڑوسی ملک الجزائر اور مالی سے فرانس کے حملے کے بعد فرار ہوکر آنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ وہ جبل شعانبی کے علاقے میں فوجی کی گشتی پارٹیوں اور چوکیوں پر گاہے گاہے حملے کرتے رہتے ہیں اور عام طور پر کھانے پینے کی اشیاء کے لیے مقامی آبادی میں مکانوں پر بھی چھاپا مار کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

تیونس کو سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے مسلح جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے حملوں کا سامنا ہے۔18 مارچ 2015ء کو مسلح افراد نے تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر کے باہر سیاحوں کی بس پر حملہ کردیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اس حملے کے بعد گذشتہ سال جون میں تیونس کا مشہور ساحلی سیاحتی مقام سوسہ میں ایک ہوٹل کے احاطے میں ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں جرمن ،برطانوی اور بیلجئین سیاح شامل تھے۔ان حملوں سے تیونس کی سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

لیبیا میں خانہ جنگی سے عراق اور شام میں برسرپیکار شدت پسند جنگجو گروپ داعش نے فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے وابستہ جنگجو گذشتہ سال جون سے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قابض ہوگئے تھے لیکن اب انھیں وہاں لیبی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد پسپائی کا سامنا ہے۔

تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زیادہ تیونسی جنگجو اس وقت عراق اور شام میں داعش یا دوسرے گروپوں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ان کے علاوہ لیبیا میں بھی تیونسی جنگجوؤں کی بڑی تعداد موجود ہے۔انھیں خدشہ ہے کہ ان جنگجوؤں کی ملک میں واپسی کی صورت میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔