.

ایرانی اپوزیشن کے قتل سے متعلق آڈیو پر مجلس خبرگان پھٹ پڑی!؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مجلس خبرگان کی 1988 کے قتل عام سے متعلق آڈیو کی مذمایران میں مجلس خبرگان رہبری نے شیعہ مرجع آیت اللہ حسین علی منتظری کی 28 سال پرانی آڈیو ٹیپ نشر کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

مذکورہ ٹیپ میں منتظری 1988 کے موسم گرما میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والی " ڈیتھ کمیٹی" کے ارکان کے ساتھ ایک اجلاس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اس قتل عام میں موت کی نیند سلائے جانے والے اکثر قیدیوں کا تعلق "مجاہدین خلق" تنظیم اور اپوزیشن کی بائیں بازو کی تنظیموں سے تھا۔ حسین علی منتظری 1988 میں برطرف کیے جانے تک ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کے جاں نشیں تھے۔

مجلس خبرگان رہبری نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جاری کی جانے والی منتظری سے منسوب آڈیو ٹیپ " دشمن کی چکی میں پانی ڈالنے کے مترادف ہے"۔

یاد رہے کہ قُم شہر میں مذہبی شخصیات سے متعلق خصوصی عدالت نے مذکورہ ٹیپ نشر کرنے پر احمد منتظری (آیت اللہ علی منتظری کے بیٹے) کو طلب کر لیا تھا اور ان پر "ایرانی نظام کے راز فاش کرنے" کا الزام عائد کیا گیا۔ احمد کے خلاف جلد عدالتی کارروائی شروع کی جائے گی۔

مجلس کے بیان میں ایرانی انقلاب کے مرشد اول خمینی کے اس فیصلے کو بھی سراہا گیا ہے جس کے تحت ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

مذکورہ ٹیپ کے نشر کیے جانے کے سبب ایرانی پارلیمنٹ کے اندر وسیع جدل سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی مطہری کی جانب سے وزیر انصاف مصطفی پور محمدی (جو 1988 میں ڈیتھ کمیٹی کے رکن تھے) کو لکھے جانے والے خط کے بعد جس میں ٹیپ کے مندرجات کی وضاحت کرنے اور ہزاروں سیاسی قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پر زور مذمت اور ایرانی نظام کی قیادت اور ڈیتھ کمیٹی کے ارکان کے خلاف عدالتی کارروائی کے مطالبوں کے بعد ، وزارت انٹیلجنس نے منتظری کے دفتر اور ان کے بیٹے کو مذکورہ ٹیپ حذف کرنے پر مجبور کر دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ ٹیپ ایرانی نظام کی قیادت کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے ایک ناقابل تردید دستاویز ہے۔

آڈیو ٹیپ کی گفتگو کے مطابق آیت اللہ علی منتظری نے 1988 میں ان ہزاروں اموات کی ذمہ دار "ڈیتھ کمیٹی" کے ارکان سے ملاقات میں غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں اور سیاسی انتقام کے عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ منتظری نے کمیٹی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہا کہ " تم لوگوں نے اسلامی جمہوریہ (ایران) کی تاریخ کے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے.. تاریخ خمینی کو ایک مجرم اور خونی آدمی شمار کرے گی۔ اس موقف کے نتیجے میں خمینی کی جانب سے منتظری کو برطرف کر دیا گیا۔