.

ایرانی سُپریم لیڈر کے پاس ’پیغمبرانہ‘ اختیارات ہیں!

ایرانی عہدیدار کی خامنہ ای کے اختیارات بارے مبالغہ آرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں رہبر اعلیٰ یعنی سپریم لیڈر کو ملک میں لا محدود اور فیصلہ کن اختیارات تو حاصل ہیں مگر حال ہی میں ان کے ایک حاشہ بردار سپریم لیڈر کو پیغمبروں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر کے انسپکٹر علی اکبر ناطق نوری نے دعویٰ کیا ہے کہ ولی الفقیہ [آیت اللہ علی خامنہ ای] کے پاس وہ اختیارات بھی ہیں جو ایک صاحب شریعت پیغمبر کے پاس ہوتے ہیں۔

شمالی تہران میں حوزہ دینیہ میں مذہبی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ناطق نوری نے کہا کہ ہمارے عقیدے اور اہل تشیع کے مسلک کے نظریے کی رو سے پاس بارہویں امام [امام مھدی] کی غیبت کے عرصے میں ولی الفقیہ [رہبر اعلیٰ] کے پاس ایک پیغمبر کے اختیارات ہیں۔

ناطق نوری نے شام میں فوجی مداخلت پر اپوزیشن کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شام میں ایران کی عسکری مداخلت کی مخالفت کررہے ہیں وہ سیاسی اور دینی بصیرت سے عاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو ایران کے قریب آنے سے روکنا ہے تو ہم دشمن کا انتظار اپنی سرحد پر کیوں کریں گے۔ ہمیں دشمن کو دور پار تک جا کر روکنا ہے۔ ایران کے لیے یہی بہتر ہے، نیز پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

ناطق نوری جو ایرانی گارڈین کونسل کے رکن بھی ہیں نے شام کی جنگ کو ایرانی جنگ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بشار الاسد کا اقتدار ختم کرنا چاہتے ہیں وہ ایران، حزب اللہ کے درمیان پل ختم کرنا چاہتے ہں۔ اگر شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم ہوتی ہے تو اسرائیل ایران کے دروازے پر دستک دے گا۔

انہوں نے بعض سرکاری عمال کی فلک بوس تنخواہوں کے اسکینڈل کو اچھالنے پربھی اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ما بعد انقلاب ایران نے 37 برسوں میں بڑے بڑے مسائل دیکھے ہیں مگر بدعنوانی کے جس دور سے ایران اب گذر رہا ہے ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔