.

ایرانی مسافر طیاروں میں ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی شام منتقلی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے "فوربز" کی رپورٹ میں ایران کے لیے نئے مسافر طیاروں کی فروخت سے خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نجی ایرانی کمپنی "ماہان ایئر" ابھی تک خفیہ پروازوں کے ذریعے شامی حکومت کے لیے اسلحہ اور جنگجو پہنچا رہی ہے۔

جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران امریکا اور یورپ کے ساتھ بڑی ڈیلوں کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے جس کے تحت وہ 500 شہری طیارے حاصل کر سکتا ہے۔ "ماہان ایئر" ابھی تک دمشق کے لیے جعلی پرواز نمبروں کا استعمال کر رہی ہے تاکہ بشار الاسد کی فورسز کو ہتھیار اور جنگجو فراہم کیے جاسکیں۔

رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا ہے ک ایران اب بھی دنیا بھر میں دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک ہے۔

"فوربز" جریدے نے خبردار کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی تشویش کا باعث بننے والے اپنے مقاصد کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے لیے اپنی سپورٹ کے واسطے نیوکلیئر معاہدے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالخصوص وہ ماضی کے ساتھ ساتھ اب بھی اپنے تجارتی طیاروں کے ذریعے خطرناک کردار ادا کر رہا ہے جیسا کہ شام میں انسانی بحران اپنی حدوں کو چھو رہا ہے اور وہاں خون ریز جنگ کا شعلہ بھڑک رہا ہے۔

رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی تجارتی ہوابازی کی جانب سے، اسلحہ اور عسکریت پسندوں کو شام منتقل کر کے بین الاقوامی جہاز رانی کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

امریکی جریدے کی رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے ایرانی اسلحے کے یمن منتقل کیے جانے پر امریکی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔

امریکا کو اندیشہ ہے کہ پاسداران انقلاب کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں مثلا "ماہان ایئر" وغیرہ، ایران کی قومی فضائی کمپنی "ایران ایئر" کی جانب سے ممکنہ طور پر خریدے جانے والے طیاروں کو حاصل کر لیں گی۔

ایرانی قومی فضائی کمپنی 118 ایئربس طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ تہران کا اٹلی اور فرانس کی کمپنی ATR سے 40 تجارتی طیارے خریدنے سے متعلق ابتدائی معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔ ایران اپنے فضائی بیڑے کو مضبوط کرنے کے لیے کینیڈا اور برازایل کی طیارہ ساز کمپنیوں کے ساتھ بھی مذاکرات کر رہا ہے۔

"ماہان ایئر" وہ پہلی ایرانی کمپنی شمار کی جاتی ہے جس نے 2011 میں ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے شام کی جانب پروازوں کا انتظام کیا۔ امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ "ماہان ایئر" پابندیوں سے متعلق بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ اس لیے کہ وہ جنگجو اور مالی رقوم شام پہنچا کر ابھی تک خطے میں عدم استحکام کے واسطے ایرانی حکومتی اقدامات کو سپورٹ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی کانگریس میں ریپبلکنز کے زیرقیادت مہم چلائی جارہی ہے کہ تہران کی جانب سے اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کی کوشش میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ اس کوشش میں ایران بوئنگ کمپنی کمپنی سے 50 ارب ڈالر قیمت کے 200 طیارے خریدنا چاہتا ہے۔

ریپبلکنز کو اس ڈیل کے پیچھے ایران کے ارادے انتہائی مشکوک نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ ایران اس ڈیل کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے جس طرح کہ وہ شام ، عراق اور یمن کے شورش زدہ علاقوں میں جنگجوؤں کو منتقل کر رہا ہے۔