.

’داعش اور یمنی حوثیوں کے مابین مماثلتیں‘

حوثی باغی جعلی فتوحات کو ابلاغی پروپیگنڈے سے کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرگرم ایران نواز حوثیوں اور عراق و شام میں دولت اسلامی ’داعش‘ کے درمیان کئی قدریں مشترک ہیں۔ دونوں جنگجو گروپوں کے درمیان فکری اور نظریاتی اختلافات کے باوجود دونوں کےطریقہ ہائے واردات میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

داعشی جنگجوؤں کی طرح حوثی بھی اپنی جعلی فتووحات کو میڈیا کے ذریعے حقیقت کا روپ دینے اور انہیں ابلاغی پروپیگنڈے کے ذریعے ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ چاہے فی الحقیقت انہیں میدان میں بدترین شکست ہی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثیوں کے ابلاغی پروپیگنڈے کی تازہ مثال حال ہی میں سعودی عرب کے سرحدی قصبے الربوعہ میں دیکھی گئی جہاں سرحد پار سے حوثیوں کے ایک گروپ نے دراندازی کی کوشش کی تو سعودی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے تمام حوثی باغیوں کو کچل ڈالا مگر اس کے باوجود حوثیوں کے ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ باغیوں نے الربوعہ قصبے پرقبضہ کرلیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے بل بوتے پر جعلی فتوحات ثابت کرنے کا ڈرامہ اس سے قبل دہشت گرد تنظیموں بالخصوص داعش کے ہاں دیکھنے کو ملتا رہا ہے جو ویڈیوز اور تصاویر کی انٹرنیٹ پر بھرمار کے ذریعے اپنا خوف اور رعب جمانے کے لیے ابلاغ کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیمیں اپنے ہاں تیار کردہ فدائی حملہ آوروں کے بارے میں بھی خوب پروپیگنڈہ کرتی ہیں۔ بعض ایسے بم دھماکے بھی ہوتے رہے ہیں جن میں ان تنظیموں کا براہ راست کوئی کردار نہیں تھا مگر انہوں نے ان کارروائیوں کو بھی اپنا رعب جمانے کے لیے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔

جہاں تک خود کش بمبار بھرتی کرنے اور لوگوں کی ذہن سازی کرکے انہیں خودکش حملے کرنے کی کہانی ہے تو وہ بھی ظاہر وباہر ہے۔ دہشت گردوں کے پاس اپنی کارروائیوں کو آگے بڑھانے کے لیے خودکش بمبار ایک بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کی ذہن سازی کی گئی تو کچھ کو نشے کا عادی بنا کر ان سے خود کش حملے کرائے گئے۔ حتیٰ کہ دہشت گردوں سے اپنے والدین تک کو قتل کرادیا گیا۔