.

شام میں فوجی مداخلت پرامریکا اورترکی میں کشیدگی

ترکی نے شام میں آپریشن روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام کے جرابلس شہر میں ترک فوج کے حالیہ آپریشن پرامریکا کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن نے جرابلس میں کرد جنگجوؤں کے خلاف جاری ترکی کی فوجی کارروائی کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہوئے انقرہ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ترکی نےجرابلس میں جاری ’’فرات کی ڈھال‘‘ کے عنوان سے فوجی آپریشن کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ شام میں جنگجوؤں کے خلاف ترک فوج کی کارروائی پر کسی کو ناک چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق واشنگٹن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی شام سے کرد فورسز مکمل طورپر دریائے فرات کی مشرق کی سمت میں پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی نے جرابلس میں فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس کے نتیجے میں حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک سینیر عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ترکی کی طرف سے کرد فورسز کے انخلاء کا جو مطالبہ کیا گیا تھا اس پر اتوار کے روز تک مکمل طورپر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ اس وقت کرد فورسز دریائے فرات کی مشرقی سمت میں جا چکی ہیں البتہ چند ایک کرد غالب دریا کے مغربی کنارے پر موجود ہیں مگر وہ کرد عسکری گروپ’’حمایۃ الشعب‘‘ کا حصہ نہیں ہیں۔

ادھر دوسری جانب ترکی نے بار دگر کرعسکری یونٹوں سے کہا ہے کہ وہ علاقہ خالی کردیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ کسی کو ترک فوج کی پیش قدمی پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

ترک فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران شمالی شام کے جرابلس شہر میں توپخانے سے 60 حملے کیے گئے جن میں کرد باغیوں کے 20 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ وہ داعش اور کردوں کی طرف سے لاحق خطرات کے مکمل خاتمے تک شام میں فوجی کارروائی جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں امریکا نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لڑائی کے بجائے شام کی جیش الحر اور امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ امریکی حکومت کی طرف سے کیا گیاہے کہ داعش سے خالی علاقے میں شامی اپوزیشن کے کسی گروپ کو نشانہ بنانے سے معاملات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

اوباما اور ایردوآن کی ملاقات

امریکی قومی سلامتی کے مشیر بن روڈس نے کہا ہے کہ صدر باراک اوباما آئندہ اتوار کو ہونے والے جی ایٹ ممالک کے چین میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کریں گے۔

اس ملاقات میں داعش کے خلاف اشتراک عمل اور شام میں جاری ترکی کے فوجی آپریشن پر بات چیت کی جائے گی۔

ترکی میں 15 جولائی کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک اور امریکی صدور کی پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکا شام میں سرگرم ڈیموکریٹک کرد فورسز کو اعتدال پسند اپوزیشن کے طورپر باور کرتےہوئے اس کی حمایت کرتاہے جب کہ ترکی کا موقف ہے کہ کرد ڈیموکریٹک الائنس ترکی میں علاحدگی پسند تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کا شامی گروپ ہے جسے انقرہ دہشت گرد قرار دیتےہوئے اس کی سرکوبی کے لیے کوشاں ہے۔