.

برقعنی کا معاملہ اقوم متحدہ تک پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں تیراکی کے "باوقار" لباس برقعنی پر پابندی کی گونج اقوام متحدہ تک بھی پہنچ گئی جس نے برقعنی پر پابندی کے فیصلوں کو مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور تفریق کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ شمار کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے منگل کے روز فرانسیسی عدلیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں اس نے برقعنی پر پابندی کے فیصلوں پر عمل درآمد روک دینے کا حکم دیا تھا۔

ہائی کمشنر کے دفتر دے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ " اس طرح کے ( پابندی کے) فیصلوں سے امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو گی بلکہ برعکس طور پر یہ مذہبی منافرت اور فرانس میں دینِ اسلام سے وابستہ افراد بالخصوص خواتین کے لیے عار کے رجحان کا سبب بنیں گے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "لباس سے متعلق قوانین مثلاً برقعنی پر پابندی جیسے فیصلے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی خود مختاری کو ختم کرتے ہیں۔ اس طرح لباس کے چناؤ کے لیے خودمختار فیصلے کرنے کے ان کے حق کا انکار کیا جاتا ہے"۔

ادھر فرانسیسی عدلیہ کے ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ فرانس کے 4 شہروں کے میئروں نے ابھی تک اپنے ساحلوں پر برقعنی پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ میئرز جلد عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

اسلاموفوبیا کی مخالف فرانسیسی کمیٹی نے تین شہروں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے تاکہ وہاں برقعنی پر پابندی کے فیصلے کو معطل کرایا جا سکے۔ ان شہروں میں Nice اور Roquebrune-Cap-Martin شامل ہیں۔

رواں موسم گرما میں فرانس کی تقریبا 30 بلدیات نے ہر اس شخص پر تیراکی کے عام مقامات میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی تھی جو " سیکولر معیار کا احترام کرنے والے لباس اور صفائی اور تیراکی کرنے والوں کی سلامتی سے متعلق قوانین کی پاسداری نہ کرے"۔

مذکورہ روک جس میں پولیس اہل کاروں کی مداخلت بھی شامل حال رہی ، فرانس میں اسلام کے حوالے سے بڑا تنازع کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سرزنش کا باعث بھی بنی۔

جمعے کے روز ملک میں اعلی ترین عدالتی باڈی فرانسیسی اسٹیٹ کونسل نے ملک کے جنوب مشرق میں برقعنی پر پابندی سے متعلق ایک بلدیہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے "قوانین میں یقینی بنائی گئی آزادی کے لیے خطرہ" شمار کیا۔

تاہم فیصلے کے باوجود بہت سے میئروں نے انتظامی عدالتوں کی جانب سے پابندی کے فیصے کو سرکاری طور پر منسوخ کیے جانے تک.."برقعنی " پر پابندی لگائے رکھنے اور اس کو پہننے والی خواتین کے خلاف چالان کاٹنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔