.

جنگ زدہ یمن کی تعمیرِنو پر 15 ارب ڈالرز لاگت آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ سے تباہ حال یمن کی تعمیرِنو پر ایک تخمینے کے مطابق پندرہ ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔

یہ بات یمن کے مقامی انتظامیہ کے وزیر عبدالراقب سیف فتح نے سعودی دارالحکومت الریاض میں یمن کی بعد از جنگ بحالی کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے موقع پر کہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''عالمی بنک کے تخمینے کے مطابق پندرہ ارب ڈالرز لاگت آئے گی''۔

فتح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈونروں کا اعتماد حاصل کرنا کوئی آسان نہیں ہے لیکن یمنی حکومت شفاف اور قابل احتساب پروگراموں کا وعدہ کرتی ہے۔

انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کن مدات میں اٹھے گی لیکن جنگ کے بعد یمنی گوناگوں مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔انھیں خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے اور سینی ٹیشن اور حفظان صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یمنی حکومت اور خلیج تعاون کونسل کے زیراہتمام مابعد تنازعے بحالی اور تعمیر نو کے موضوع پر اس دو روزہ ورکشاپ میں عالمی امدادی ایجنسیوں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔

چھے عرب خلیجی ریاستوں پر مشتمل جی سی سی نے دسمبر میں یمن میں جاری تنازعے کے کسی سیاسی حل کے بعد تعمیرِنو کے لیے ایک عالمی کانفرنس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔واضح رہے کہ یمن مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فوجی مداخلت سے قبل بھی عرب دنیا کا غریب ترین ملک تھا اور گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران جنگ نے اس کو مزید تباہ حال کردیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے دوسرے علاقوں پر قبضے کے بعد فوجی مداخلت کی تھی۔اتحاد کے لڑاکا طیارے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو بچانے کے لیے حوثی باغیوں اور سابق معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیاؤں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں اور بعض شہروں میں اتحاد کے زمینی دستے بھی یمنی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

اس دوران اقوام متحدہ کی ثالثی میں کویت میں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے تھے لیکن یہ حوثیوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے تھے اور اگست کے اوائل میں یہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم کردیے گئے تھے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اعلان کردہ نئے امن اقدام کے باوجود مستقبل قریب میں یمن میں جاری جنگ کا جلد کوئی اختتام نظر نہیں آرہا ہے۔