.

سعودی عرب تیل پیداوار کی ''ذمے دارانہ'' پالیسی برقرار رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ ان کا ملک تیل کی پیداوار کا کوئی مخصوص ہدف نہیں رکھتا ہے اور اس کی پیداوار صارفین کی ضروریات کے مطابق ہے۔

انھوں نے چین کے سرکاری دورے کے موقع پر بدھ کے روز العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''سعودی مملکت کی تیل کی پیداوار صارفین کی ضروریات کو پورا کررہی ہے اور اس کی پیداوار کی موجودہ ذمے دارانہ پالیسی برقرار رکھی جائے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''خام تیل کی کم قیمتوں کے باوجود تیل کی مانگ سے مجھے کوئی تشویش لاحق نہیں ہے۔چین میں خام تیل کی مانگ بدستور بہت صحت مند ہے''۔

خالد الفالح نے بتایا کہ سعودی عرب کے تیل صاف کرنے کے دو نئے کارخانے ( ریفائنریاں) اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام کررہے ہیں۔ ان میں ایک ینبوع میں واقع ریفائنری کی پیداواری صلاحیت چار لاکھ بیرل یومیہ ہے اور دوسری ریفائنری جبیل میں واقع ہے۔اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت بھی اتنی ہے۔

سعودی عرب جولائی میں یومیہ ایک کروڑ چھے لاکھ ستر ہزار بیرل تیل نکال رہا تھا اور اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت ایک کروڑ پچیس لاکھ بیرل ہے۔یوں وہ دنیا میں تیل کی مانگ میں اضافے کی صورت میں اپنی پیداوار کو مزید بڑھا سکتا ہے۔