.

اسرائیل پانچ سال میں جوہری معاہدے کی توثیق کردے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی کے جامع معاہدے ( سی ٹی بی ٹی) پر عمل درآمد کرانے کی ذمے دار تنظیم کے سربراہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ آیندہ پانچ سال کے دوران سی ٹی بی ٹی کی توثیق کردے۔

لاسینا ضربو نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے کی توثیق کرنے والا اگلا اہم ملک ہونا چاہیے اور مجھے امید ہے کہ اس میں پانچ سال سے کم عرصہ لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ میں پانچ سال کو طویل المیعاد عرصے کے طور پر پیش کررہا ہوں اور یہ اس مثبت علامت کی بنا پر ہے جو میں نے اسرائیل میں دیکھی تھی۔ مسٹر ضربو نے جون میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے پہلی مرتبہ ملاقات کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے اور اس سے دوسروں کو بھی آگے آنے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے متعدد مرتبہ ملاقات کی ہے اور ایرانی بڑے مثبت انداز میں جوہری تجربات پر پابندی کی ذمے دار تنظیم میں فعال انداز میں شرکت کررہے ہیں۔میرے خیال میں ایران کے لیے جب بھی صورت حال سازگار ہوئی تو وہ سی ٹی بی ٹی کی توثیق پر غور کریں گے اور اس کی توثیق کردیں گے۔

واضح رہے کہ جوہری تجربات پر پابندی کے جامع معاہدے میں 196 رکن ممالک شامل ہیں۔ان میں سے 183 نے اس پر دستخط کیے ہیں اور 164 نے اس کی توثیق کی ہے لیکن ابھی تک اس معاہدے کا نفاذ نہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ جوہری پاور ری ایکٹر یا ریسرچ ری ایکٹرز کے حامل آٹھ ممالک امریکا ،چین ،ایران ،اسرائیل ،مصر ،بھارت ،پاکستان اور شمالی کوریا نے اس کی ابھی تک توثیق نہیں کی ہے۔اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1996ء میں منظور کیا تھا۔