.

امریکی سیاست دانوں کے مشہور زمانہ جنسی اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاسی تاریخ میں ویسے تو متعدد جنسی اسکینڈل سامنے آئے تاہم ان میں میں سب سے زیادہ شہرت اس اسکینڈل کو ملی جو دنیا کے اہم ترین صدر کو اس کے منصب سے ہٹانے کے قریب لے آیا تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن اور وہائٹ ہاؤس میں زیر تربیت مونیکا لیونسکی کا اسکینڈل کس کو یاد نہیں جب کلنٹن کانگریس کی جانب سے پوچھ گچھ اور احتساب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے نتیجے میں بطور امریکی صدر ان کے مقام اور منصب کے احترام میں کمی آئی تھی۔

کلنٹن کانگریس کے سامنے مونیکا کے ساتھ اپنے تعلق کو بے باک انداز سے بیان کرنے پر مجبور ہو گئے جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ بالخصوص اہلیہ ہیلری کلنٹن کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انہوں نے اپنے شوہر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کی ہمت بڑھائی۔ بالآخر کلنٹن بچ گئے اور مستعفی ہونے پر مجبور نہیں ہوئے جب کہ صحافیوں نے مونیکا لیونسکی کا پیچھا نہ چھوڑا جنہوں نے بعد ازاں ایک طویل کتاب میں اس اسکینڈل کے بارے میں گفتگو کی۔

پرانے جنرل کا اسکینڈل

دوسرے مرتبے پر امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا اسکینڈل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پیٹریاس کو ریپبلکن پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار بننے سے محروم کر دیا۔ پیٹریاس ایک خاتون صحافی کے ساتھ تعلقات قائم کر بیٹھے جو ایک فور اسٹار جنرل کے طور پر پیٹریاس کی زندگی کے بارے میں کتاب تحریر کر رہی تھی۔ پیٹریاس نے اپنے کیریئر کے دوران فوجی ادارے میں اعلی منصبوں پر ذمہ داری سرانجام دی۔ عراق جنگ میں ان کا کردار اہم رہا۔ اس کے بعد وہ دنیا کے اول نمبر کے انٹیلجنس ادارے سی آئی اے کے سربراہ بنے۔ بعض لوگ شدید اس بات پر شدید حیرت کا شکار ہوئے کہ جنرل پیٹریاس کے مقام پر موجود شخص بھی نوجوانوں والی غلطیوں کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ وہ سکیورٹی خطرات کو کا خیال کیے بغیر سرکاری ایجنسی کے ای میل سے خاتون صحافی کو ذاتی نوعیت کے پیغامات ارسال کرتے تھے۔ تاہم پیٹریاس بالآخر اسکینڈل سے بچ کر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور مستعفی ہو گئے۔ انہیں عدالتی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا اور جیل سے بچنے کے لیے 1 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی ادا کیا۔ بعد ازاں پیٹریاس عسکری اور سیاسی زندگی سے روپوش ہو گئے۔

وہائٹ ہاؤس کے نزدیک شب باشی

جہاں تک نیویارک کے سابق گورنر Eliot Spitzer کا تعلق ہے تو انہوں نے وہائٹ ہاؤس کے نزدیک واقع ہوٹل میں ایک خاتون کے ساتھ شب باشی کی۔ امریکی اخبارات نے فوری طور پر ان کی اس مہم جوئی کی تفصیلات منظرعام پر پیش کر ڈالیں۔ اس کے نتیجے میں گورنر نے ایک پریس کانفرنس میں معذرت کا اظہار کرتے ہوئے معافی طلب کی۔ تاہم وہ مستعفی ہو کر اپنے منصب سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہو گئے۔ متناقض پہلو یہ ہے کہ Spitzer اٹارنی جنرل کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں اور وہ وال اسٹریٹ اور دیگر مالیاتی اداروں کو سازباز اور مالی رقوم کو جمع کرنے کی ہوس سے صاف کرنے ، شفافیت کو یقینی بنانے اور بہترین انتظامی امور کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔

ارجنٹائن کی خاتون کا عاشق

امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے گورنر مارک سینفورڈ جون 2009 میں 6 روز کے لیے اچانک نظروں سے روپوش ہو گئے۔ سینفورڈ نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ وہ پہاڑی علاقے میں کھو گئے تھے۔ تاہم انکشاف یہ ہوا کہ وہ ارجنٹائن کی ایک خاتون کی زلفوں کے اسیر ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے ملک چھوڑ کر اس خاتون سے ملاقات کے لیے گئے۔ مشکل یہ تھی کی سینفورڈ شادی شدہ اور 4 بچوں کے باپ تھے۔ اس لیے ان کی اہلیہ اسکینڈل کو برداشت نہیں کر سکیں اور طلاق کا مطالبہ کرنے کے علاوہ انہوں نے اپنے شوہر کی بے وفائی کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھ ڈالی۔ بالاخر سینفورڈ.. ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنرز کی ایسوسی ایشن کی صدارت سے مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے۔

اسی طرح لوئزیانا ریاست سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر ڈیوڈ ویٹر کو بھی مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیوڈ کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ مساج اور دیگر خدمات پیش کرنے والی "ڈی سی میڈم" کے نام سے معروف ایک خاتون کے گاہکوں میں شامل تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ خاتون ایک قحبہ خانہ چلا رہی تھی۔ بالآخر ڈیوڈ کو مستعفی ہونا پڑا۔ متناقض پہلو یہ ہے کہ ڈیوڈ ویٹر خود کو خاندانی رشتوں کا احترام کرنے والے ایک قدامت پسند انسان کے طور پر پیش کرتے تھے۔ وہ مونیکا لیونسکی کے اسکینڈل کے بعد بل کلنٹن کے مستعفی ہونے کا شدید ترین مطالبہ کرنے والوں میں سے تھے۔

امریکی ایوان زیریں کا بھی حصہ

اس کے علاوہ کانگریس میں ایوان زیریں کے ترجمان Newt Gingrich بھی اپنے منصب سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ استعفی ایک زیرتربیت خاتون کے ساتھ غیر قانونی تعلقات قائم کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد دیا۔ یہ تعلق صدر بل کلنٹن کے خلاف مہم کی قیادت کے دوران قائم ہوا۔

اسی طرح کانگریس میں ایوان زیریں کے رکن اینتھونی وینر بھی اپنے منصب سے مستعفی ہوئے۔ انہوں نے بعض خواتین کو ٹوئیٹر کے ذریعے جنسی نوعیت کے پیغامات ارسال کیے تھے۔ وینر نے یہ پیغامات اپنی شادی کے کچھ عرصہ بعد ارسال کیے تھے تاہم انہوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ وینر کی بھارتی نژاد اہلیہ ہما عابدین نے گزشتہ ہفتے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ ہما ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی قریب ترین معاون ہیں۔

سابق ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹر جان ایڈورڈ کا اپنی انتخابی مہم کی ڈائریکٹر کے ساتھ تعلق منظرعام پر آیا جب کہ ان کی اہلیہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ایڈورڈ کے ناجائز تعلق کے نتیجے میں ان کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی جس کے بعد سال 2004 میں امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ان کی نامزدگی کے امکانات پر بہت برا اثر پڑا۔