.

امریکی عدالت کا فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کے خلاف فیصلہ مسترد

امریکی مجروحین اور مہلوکین کے خاندانوں کو 65 کروڑ55 لاکھ ڈالرز ادا کرنے کا حکم کالعدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادیِ فلسطین ( پی ایل او) کے خلاف ماتحت عدالت کا اسرائیل میں چھے حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکیوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے 65 کروڑ 55 لاکھ ڈالرز ادا کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔

نیویارک میں امریکا کی سیکنڈ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے قرار دیا ہے کہ ماتحت عدالت کو یہ کیس سننے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔چنانچہ عدالت نے فروری 2015ء میں ماتحت عدالت کے جاری کردہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اپیل عدالت کے تین رکنی پینل نے 61 صفحات کو محیط بدھ کے روز اپنا یہ فیصلہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ''مشین گنوں سے حملے اور خودکش بم دھماکے بہت ہی خوف ناک تھے اور ان کی ہلاکت آفرینی کی بنا پر ہی متاثرہ مدعیوں نے یہ درخواست دائر کی تھی لیکن وفاقی عدالتیں آئین سے ماورا ایک سول کیس کی سماعت کا دائرہ اختیار نہیں رکھتی ہیں''۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ ''ہم ضلعی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں اور ضلعی عدالت کو یہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ اپنا دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس کو مسترد کردے''۔

اسرائیل میں جنوری 2002ء سے جنوری 2004ء کے درمیان حملوں میں 33 افراد ہلاک اور 390 زخمی ہوگئے تھے۔ بعد میں 2004ء ہی میں گیارہ امریکی خاندانوں نے وفاقی عدالت میں امریکا کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ایک سول مقدمہ دائر کردیا تھا۔اس قانون کے تحت بین الاقوامی حملوں میں متاثرہ افراد امریکی عدالتوں میں ہرجانے کے مقدمات دائر کرسکتے ہیں۔

فروری 2015ء میں ایک جیوری نے سات ہفتے تک مقدمے کی سماعت کے بعد دو فلسطینی اداروں کو حملوں سے متعلق پچیس درخواستوں پر قصور وار ٹھہرایا تھا اور ان کو متاثرہ خاندانوں کو 21 کروڑ 80 ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے زخمیوں کو دس، دس لاکھ ڈالرز فی کس اور جن کے پیارے ان حملوں میں ہلاک ہوگئے تھے ،انھیں ڈھائی ڈھائی کروڑ ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔یہ رقم امریکا کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت خود بخود ہی تین گنا ہوگئی تھی اور بڑھ کر 65 کروڑ 55 لاکھ ڈالرز ہوگئی تھی۔

اسرائیل کے جابرانہ قبضے کے خلاف دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران یہ بم دھماکے اور حملے حماس اور فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے عسکری ونگ الاقصیٰ شہدائے بریگیڈز نے کیے تھے۔امریکا نے ان دونوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔