ازبکستان کے صدر اسلام کریموف انتفال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آنجہانی صدر پر فالج کا حملہ ہوا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

بزرگ صدر کریموف گزشتہ ہفتے کے روز فالج حملے کے بعد ہسپتال داخل ہوئے تھے اور ذرائع کے بقول آج بروز جمعہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔

گذشتہ روز ازبک حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں "عوام کو دکھی دل کے اطلاع دی گئی تھی کہ علیل صدر کی حالت تیزی سے بگڑی ہے، جسے ڈاکٹر تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔"

اسلام کریموف کے ہسپتال داخلے کے بعد سے ہی ان کی صحت اور انتقال سے متعلق افواہوں کا سلسلہ جاری تھا۔ وسطی ایشیا کے باہر سے نشریات پیش کرنے والے حکومت مخالف میڈیا چینلز نے دعوی کیا تھا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔

گذشتہ سوموار کے روز بزرگ رہنما کی سب سے چھوٹی بیٹی لولا کریموف نے سماجی رابطے کے فورمز پر اطلاع دی تھی کہ فالج حملے کے بعد ان کے والد کی حالت سنبھل گئی ہے۔ دو دن بعد اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا تھا کہ صدر روبصحت ہیں۔

کریموف ازبکستان کی سابقہ سویت یونین سے 1991ء میں آزادی سے قبل ملک کے صدر چلے آ رہے تھے۔ تیس جنوری 1937 کو ثمرقند کے تاریخی شہر میں پیدا ہونے والے کریموف کی پرورش ایک سرکاری یتیم خانے میں ہوئی۔

انہوں نے مکینکل انجیئرنگ اور معاشیات میں ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔ وہ 1989 میں سوویت ازبکستان کی کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں