ریاض، نئی دہلی میں کشیدگی پیدا کرنے کی ایرانی سازش ناکام

ایران کی سرحدی فورسز کی پاکستانی علاقے پنجگور میں بھی گولا باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز ایشیائی ممالک کے دورے پرہیں، ایران نے مبینہ طورپر بھارت اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی سازشیں شروع کی ہیں۔ مگر بھارتی وزارت خارجہ نے ایران نواز ذرائع ابلاغ کے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے تمام الزامات کو 'بے ہودہ' قرار دیا ہے۔

معاصر عزیز روزنامہ ’’عکاظ‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی نگرانی میں لبنان سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایران کے’’العالم‘‘ نیوزچینل کی ویب سائٹ پر پوسٹ ایک خبر میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام منسوب ایک بیان نقل کیا گیا ہے۔ 'العالم' کی رپورٹ کے مطابق اخبار ہندستان ٹائمز میں شائع سشما سوراج کے اس مبینہ بیان میں انہوں نے سعودی نائب ولی عہد کے دورہ پاکستان، چین اور دوسرے ایشیائی ملکوں کے دورے کو' بے معنی' قرار دیا ہے۔

اخبار کے مطابق "العالم" کی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ اخبار ہندستان ٹائمز نے سشما سوراج سے شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان اور چین پر رد عمل معلوم کیا تھا جس پر انہوں نے کہا "کہ نئی دہلی سعودی نائب ولی عہد کے دورہ پاکستان، چین اور جاپان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور نہ ہی اس دورے کے کوئی دور رس تزویراتی نتائج کی توقع رکھتا ہے۔" اخبار نے سشما سوراج کے نام منسوب بیان کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے لکھا کہ سشما سوراج نے خبردار کیا کہ "امریکی حمایت یافتہ سعودی نائب ولی عہد کی چین میں سرگرمیوں پر نظر رکھی جانی چاہیے۔"

ایران نواز ’’العالم‘‘ ٹی وی کی ویب سائٹ پر مذکورہ خبر کی اشاعت کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے فوری طورپر وضاحت جاری کی اور کہا کہ سشما سوراج سے نہ تو سعودی نائب ولی عہد کے دورہ ایشیا کی بابت کوئی سوال پوچھا گیا اور نہ ہی انہوں نے خود سے ایسا کوئی بیان دیا ہے۔ "العالم" کی ویب سائٹ پرسشما کے نام منسوب بیان من گھڑت اور حقائق کو توڑ مروڑ پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئی دہلی اس طرح منفی ابلاغی پروپیگنڈے کو سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی سازش قرار دیتا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ کثیرالاشاعت انگریزی روزنامہ ’ہندستان ٹائمز‘ ایسی کوئی خبر سرے سے شائع ہی نہیں کی۔ 'العالم' ٹی وی نے اخبار کے نام اپنی طرف سے کیسے جعلی کہانی چھاپ دی ہے۔

اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد بھارت میں متعین سعودی سفیر سعود الساطی نے ’’عکاظ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاض اور نئی دہلی کے درمیان تزویراتی تعلقات ماضی کی طرح ترقی کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ملک سیاسی، اقتصادی اور تجارتی میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تعاون کرنے کے متمنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی نائب ولی عہد کے دورہ جنوبی ایشیا کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کا مقصد بھارت اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا کرنا اور دونوں ملکوں کے فروغ پذیر تعلقات میں رخنہ اندازی کرنا ہے۔

ادھر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فورسز نے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی سرحدی فورسز نے 20 سے زائد مارٹر گولے فائر کئے جو پروم کے میدانی علاقہ میں گرے، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں