داعش اور کردوں سے 400 کلومیٹر شامی علاقہ چھڑا لیا: ایردوآن

عالمی برادری شام میں محفوظ زون کے قیام میں تعاون کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک فوج نے حال ہی میں شمالی شام میں کرد جنگجوؤں اور دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف کیے گئے آپریشن ’’فرات کی ڈھال‘‘ کے دوران شام کا 400 مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرالیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر نے اپنے ایک بیان میں داعش اور کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دینے فیصلے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ترکی شام میں محفوظ زون کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ توقع ہے کہ عالمی طاقتیں محفوظ زون کے قیام میں انقرہ کے ساتھ تعاون کریں گی۔

صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ انقرہ حکومت کی طرف سے شمالی شام کے کردوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ دریائے فرات کی مشرقی سمت نکل جائیں مگر کرد جنگجوؤں نے ابھی تک علاقہ نہیں چھوڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کرد جنگجو دریائے فراد کی مشرق کی طرف نکل گئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ انہوں[کردوں] نے دریا عبور نہیں کیا ہے۔ صدر ایردوآن کا اشارہ شام میں سرگرم کرد ملیشیا حمایۃ الشعب کی جانب تھا۔ ترکی اس تنظیم کو جنوب مشرقی ترکی میں علاحدگی کے لیے سرگرم کردستان ورکرز پارٹی’’پی کے کے‘‘ کا حصہ سمجھتا ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں شامی اپوزیشن نے جرابلس کے مغرب اور جنوب میں واقع قصبوں میں شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کا کہا ہے تاکہ داعش اور دوسرے عناصر کے خلاف کارروائی شروع کی جا سکے۔ اپوزیشن کی نمائندہ فورسز نے مشرقی جرابلس میں 13 اہم قصبات پرقبضہ کرلیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں میں داعش کو بدترین نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پیٹا گون کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو شام اور عراق سے باہر نکلنے کے لیے ترکی کا راستہ استعمال کرتے رہے ہیں مگر ترکی کی حالیہ کارروائی کے نتیجے میں داعش کی بیرون ملک آمد ورفت بری طرح متاثر ہوگی۔ اس وقت ترکی سرحد کے قریب الراعی کے علاقے میں داعش صرف 25 کلومیٹر کےعلاقے میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں