امریکا اور چین موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تاریخی معاہدے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا اور چین گذشتہ سال پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کانفرنس میں طے شدہ تاریخی موسمیاتی تبدیلی معاہدے میں شامل ہوگئے ہیں۔اس موقع پر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرّۂ ارض کو بچانے کے لیے تعاون ہی واحد بہترین موقع ہے۔

صدر اوباما اور ان کے چینی ہم منصب شی جین پنگ نے عالمی اقتصادی کانفرنس کے موقع پر معاہدے سے متعلق دستاویزات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے حوالے کی ہیں۔ان میں امریکا اور چین کی جانب سے اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ انھوں نے پیرس معاہدے میں شمولیت کے لیے ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔

پیرس معاہدے میں ہر ملک کے لیے کاربن کے اخراج پر قابو پانے کے لیے الگ الگ اہداف مقرر کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ چین اور امریکا اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے ممالک ہیں۔

صدر اوباما نے تقریب میں کہا کہ ''یہ جنگ دنیا کا کوئی ایک ملک خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو،اکیلے نہیں لڑسکتا۔ایک دن ایسا آئے گا اور شاید ہم اس تاریخی لمحے کو یاد کر سکیں کہ ہم نے اپنے کرّۂ ارض کو بچانے کا فیصلہ کیا تھا''۔

اس موقع پر چینی صدر نے ایک مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اعلان سے مزید ممالک کی اس ضمن میں اقدامات کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ''موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ہمارا ردعمل ہمارے لوگوں کے مستقبل اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے ہے''۔

چینی اورامریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی توثیق کا یہ مطلب ہے کہ اب اس سال کے آخر میں مجوزہ نظام الاوقات سے قبل ہی اس پر عمل درآمد کا آغاز ہوسکتا ہے۔معاہدے سے متعلق دستاویزات حوالے کرنے کی تقریب چین کے شہر ہینگ ژو میں امریکی صدر براک اوباما کی آمد کے فوری بعد منعقد کی گئی ہے۔اسی شہر میں دنیا کے بیس بڑے صنعتی ملکوں اور اُبھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل گروپ 20 کا سربراہ اجلاس منعقد ہورہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں