ایرانی فوج کا ایک اور جنرل بشارالاسد پرقربان

جنرل داریوش درستی کو حماتۃ میں قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے وسطی علاقے حماتۃ کے شمال میں جاری لڑائی کے دوران جیش الحر کے حملے میں ایران فوج کا ایک جنرل ہلاک ہوگیا۔ مقتول کی شناخت میجر جنرل داریوش درستی کے نام سے کی گئی ہے جو پاسداران انقلاب سے وابستہ رہ چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے فارسی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ جنرل درستی حماتۃ کے شمال میں حلفایا کے مقام پر شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج جیش الحر کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک ہوا۔

ایران میں شام کی جنگ سے متعلق فارسی میں رپورٹنگ کرنے والی ایک ویب سائیٹ کے مطابق جنرل درستی کئی ماہ سے شام میں مقیم تھے اور وہ شامی اپوزیشن کے خلاف جنگ میں شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کی عسکری رہ نمائی کررہے تھے۔

ادھر شامی اپوزیشن کی مقرب "جیش العزۃ" ویب سائیٹ نے مقتول جنرل درستی کی لاش کی تصویر پوسٹ کی ہے اور بتایا ہے کہ جنرل درستی دو دیگر ایرانی فوجیوں سمیت جمعرات کو حماتۃ میں شامی اپوزیشن فورسز کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ جنرل درستی کی ہلاکت کے بعد شام میں ایک ہفتے کے دوران ہلاک ہونے والے ایرانی جرنیلوں کی تعداد تین ہوچکی ہے۔ پچھلے ہفتے حلب میں لڑائی کے دوران ایرانی جنرل احمد غلامی اور پاسداران انقلاب کے ایک سابق جنرل مصطفیٰ رشید بور بھی لڑائی میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں بشار الاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے چھ افغان اور پاکستانی جنگجوؤں کو ایران کے قم شہر میں دفن کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2011ء کے بعد سےشام میں جاری لڑائی کے دوران اس کے 1200 فوجی افسر اور اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں مگر شام میں ہلاک ہونے والےایرانی فوجیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں