اٹلی سے دو آئمہ مساجد انتہا پسند قرار دے کر بے دخل

ڈیڑھ سال میں 11 آئمہ مساجد اٹلی سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اطالوی حکومت نے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے دو آئمہ مساجد کو انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک بدر کردیا ہے۔ سنہ 2015ء کے اوائل سے اب تک اطالوی حکومت 11 آئمہ مساجد کو انتہا پسند قرار دے کر ملک سے بے دخل کرچکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اطالوی وزیرداخلہ انجلینو الفانو کا کہنا ہے کہ ملک سے بے دخل کردہ دو آئمہ مساجد میں سے ایک کا تعلق مراکش اور دوسرے کا تیونس سے ہے۔ اٹلی سے نکالے جانے کے بعد 39 سالہ عالم دین تیونس اور 42 سالہ مراکش میں اپنے آبائی شہر مراکش روانہ ہوگئے ہیں۔

اطالوی وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ مراکشی امام مسجد 2014ء سے شمال مغربی شہر نوفارا میں مقیم تھے۔ ان پر رواں سال مارچ میں مذہبی انتہا پسندی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو جبرا نقاب کرایا۔ اس کے علاوہ اٹلی میں مقیم متعدد مراکشی شہریوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کیا تھا۔

ملک بدر کیے گئے دوسرے امام مسجد کا تعلق تیونس سے ہے جو 2015ء کے اوائل سے نوفارا ہی میں مقیم تھے جہاں وہ ایک مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دیتےتھے۔ مغرب مخالف تقاریر اور شدت پسندانہ تعلیمات کی تبلیغ کی پاداش میں انہیں ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں