ترکی شمالی شام میں ''مصنوعی ریاست'' کی اجازت نہیں دے گا: یلدرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے خبردار کیا ہے کہ ''ان کا ملک شام کے شمالی علاقے میں کسی 'مصنوعی ریاست' کے قیام کی اجازت نہیں دے گا''۔

ان کا اشارہ امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کی جانب تھا جنھوں نے اپنے زیر قبضہ کرد اکثریتی علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔ ترکی اپنے حمایت یافتہ شامی باغیوں کی مدد سے ان کرد جنگجوؤں کے خلاف شمالی شام میں کارروائی کررہا ہے۔

بن علی یلدرم اتوار کے روز جنوب مشرقی شہر دیار بکر میں خطاب کررہے تھے جہاں انھوں نے کرد اکثریتی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور کرد باغیوں کے حملوں میں تباہ ہونے والے حصوں کی تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کے حوالے سے کہا کہ ''ہم وہاں فرات کی ڈھال کے نام سے موجود ہیں۔ ہم وہاں اپنی سرحدوں کے دفاع ،اپنے شہریوں کو جان ومال کا تحفظ مہیا کرنے اور شام کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے گئے ہیں''۔

ترکی نے شام کے سرحدی علاقے میں 24 اگست کو''فرات کی ڈھال'' کے نام سے داعش اور شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اس کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہر جرابلس پر داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ ترکی نے ہفتے کے روز شام کے شمالی گاؤں الرائے میں مزید ٹینک بھیج دیے ہیں۔اس طرح اس نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک اور محاذ جنگ کھول لیا ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ان کا طویل عرصے کے لیے فوجی قیام کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں اور کرد ملیشیا کے خطرات سے اپنے سرحدی علاقے کو محفوظ بنانا ہے۔ ترکی نے کرد علاحدگی پسند گروپ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی طرح وائی پی جی کو بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

امریکا اور یورپ نے بھی پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے لیکن امریکا کا کہنا ہے کہ وائی پی جی پی کے کے سے ایک الگ گروپ ہے اور وہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں اس کا سب سے زیادہ فعال شراکت دار ہے۔اس کے اس مؤقف سے ترکی متفق نہیں اور اسی وجہ سے شامی کردوں کے معاملے میں دونوں ملکوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ترک وزیراعظم نے اپنی اس تقریر میں صدر رجب طیب ایردوآن کی امریکی صدر براک اوباما سے چین میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر گفتگو ہی کا اعادہ کیا ہے۔ترک صدر نے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ''یہ ہماری خواہش ہے کہ ہماری جنوبی سرحد کے اس پار دہشت گردی کا کوئی راستہ نہ کھلے''۔

صدر ایردوآن متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی کے اتحادیوں کو داعش اور وائی پی جی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دونوں گروپ ترکی کے لیے خطرہ ہیں۔

درایں اثناء سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے اطلاع دی ہے کہ ترکی کے لڑاکا جیٹ نے شام کے شمال مغربی صوبے حلب میں ہفتے کی شب داعش کے چار ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اناطولو نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے الخالدی کے علاقے میں تین اہداف کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے اور وقوف کے علاقے میں چوتھا فضائی حملہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں