ریستوران مہذب وغیرمہذب گاہکوں کو کیسے ڈیل کرتا ہے؟

ہسپانوی ریستوران میں غیرمہذب گاہکوں کو مہنگی کافی دی جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عموما ریستورانوں کی انتظامیہ اپنے گاہکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے معیاری کھانوں کے ساتھ ساتھ ان کی قیمت میں کمی کرکے اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اسپین میں ایک ریستوران نے کسی اور وجہ سےعالمی شہرت حاصل کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسپین کے ایک ریستوران میں گاہکوں کے ساتھ ان کے مہذبانہ اور غیرمہذبانہ رویے کی بناء پر سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی گاہک بدتمیز ہوگا تو اسے اپنی بدتمیزی اور بد تہذیبی کے حساب سےکھانے اور کافی کے پیسے ادا کرنا ہوں گے جب کہ مہذب گاہکوں کےساتھ خصوصی رعایت کی جاتی ہے۔

ریستوران کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے اس طرز عمل کا مقصد لوگوں میں مہذبہ اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کو فروغ دینا ہے۔ جو لوگ بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کے کھانےکا بل مہذب افراد کے بل سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ یا تو دوبارہ اس ریستوران پرآنے کی زحمت نہیں کرتے یا آتے ہیں تو مہذب انداز اختیار کرتے ہیں۔

اخبار "ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق اسپین میں واقع اس منفرد ریستوران کو’’بلو گریویو‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب سے ریستوران نے مہذب اور غیرمہذب گاہکوں کو الگ الگ انداز میں ڈیل کرنا شروع کیا ہے ہوٹل پر رش بڑھ گیا ہے اور گاہک محتاط انداز میں بات کرتے ہیں۔

ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے کھانوں اور کافی کی تین الگ الگ قیمتیں رکھی گئی ہیں۔ جو افراد غیرمہذبانہ انداز اپناتے ہیں ان کے لیے کافی کے ایک کپ کی قیمت پانچ یوورو ہے۔ درمیانے درجے کے مہذب افراد کی علامت یہ ہے کہ وہ ’’جناب عالی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ان کے لیے کافی کے ایک کپ کی قیمت 3 یورو ہے جب کہ حد درجہ مہذب افراد کے لیے کافی کپ کی قیمت 1.30 یورو رکھی گئی ہے۔

ہوٹل کے باہر جلی حروف میں لکھا گیا ہے’ خصوصی رعایت کے حصول کے لیے آپ کی خوش اخلاقی بنیادی شرط ہے‘۔ اس ضمن میں (Buenos días. Un café, por favor)کے الفاظ خاص طور پراہمیت کے حامل ہیں۔ یعنی گاہک کو چاہیے کہ وہ کہے’’صبح بخیر، جناب کافی کا ایک کپ عنایت کیجیے‘‘۔

کافی کی رعایتی قیمتیں ہوٹل کے تمام کمروں کے دروازوں پر چسپاں ہیں۔ ہوٹل کی مالکن ایک خاتون مسز مارسیل فالنسیا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کل لوگ جلدی میں اور زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ وہ کوئی بھی چیز طلب کرتے وقت اخلاقی قدروں اور سلام و دعا کو بھول جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کو جناب عالی کہنا سکھا رہے ہیں اور ہم اپنےمقصد میں کامیاب ہیں۔ ہم گاہکوں سے کہتے ہیں کہ جناب عالی کہنے سے آپ کی شخصیت زیادہ قابل احترام ہوجاتی ہے۔ کولمبین نژاد 41 سالہ فالینسا کا کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ کوئی چیز طلب کرتے وقت آپ جناب عالی کہیں، جب چیز مل جائے تو شکریہ ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں