مقبوضہ کشمیر: جھڑپوں اور فورسز کی کارروائیوں میں 100 افراد زخمی

کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہ نماؤں کا بھارتی وزیرداخلہ کی سربراہی میں وفد سے ملاقات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں افراد نے قابض فورسز کی چیرہ دستیوں اور مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور شاٹ گن کی گولیاں چلائی ہیں جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی پولیس کے افسر کا کہنا ہے کہ اتوار کو اس وقت جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جب پولیس نے ضلع شوپیاں کے ایک گاؤں کی جانب مارچ کرنے والے افراد کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف حریت پسند گروپوں نے اس احتجاجی مارچ کی اپیل کی تھی۔

ادھر سری نگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہ نماؤں نے نئی دہلی سے بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں آنے والے ارکان پارلیمان پر مشتمل وفد سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔وفد مقبوضہ کشمیرمیں حالات کو معمول پر لانے کی غرض سے وزیراعظم نریندر مودی کی کوششوں کے سلسلے میں آیا ہے۔

پوری وادی کشمیر میں سرکردہ حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کے آٹھ جولائی کو ماورائے عدالت قتل کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے اور کشمیری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ریاستی حکومت نے امن وامان کی ابتر صورت حال پر قابو پانے کے لیے شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے، مواصلاتی بلیک آؤٹ جاری ہے اور بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔

مگر جبر واستبداد پر مبنی ان کارروائیوں اور اقدامات کے باوجود ریاستی حکومت اور بھارتی فورسز ریاست کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہروں اور آزادی کے حق میں ریلیوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔

واضح رہے کہ بائیس سالہ برہان وانی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی مداخلت کے خلاف مسلح جدوجہد میں پیش پیش تھے اور گذشتہ پانچ سال کے دوران وہ اس مسلح مزاحمت کا ایک نمایاں کردار بن چکے تھے۔ وہ ایک اسکول ہیڈ ماسٹر کے بیٹے تھے۔ وہ آن لائن اپنے ویڈیو پیغامات پوسٹ کرتے رہتے تھے جس میں وہ ایک فوجی وردی میں ملبوس نظر آتے تھے۔ وہ ریاست پر بھارتی حکمرانی کے خلاف نوجوانوں کو اٹھ کھڑا ہونے کے لیے اپنی تحریک میں شمولیت کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد وادیِ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو کے نفاذ کے باوجود پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ دوماہ کے دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور ان کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں مرنے والوں کی تعداد ستر سے زیادہ ہوچکی ہے اور ساڑھے تین سے چار ہزار کے درمیان افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بعض علاقوں میں مظاہروں اور مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے زیادہ تر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں