بیرون سے ایرانی حجاج مکہ پہنچ گئے: سعودی وزیر حج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حج اور عمرے کے سعودی وزیر محمد بنتن نے پیر کے روز بتایا ہے کہ وہ ایرانی عازمین حج جنہوں نے اپنے ملک کے باہر سے ویزے کے لیے درخواستیں پیش کی تھیں، بیرون ملک سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ ایران نے اپنے اندرون ملک کے شہریوں کو رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم کر دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مذکورہ وزیر کا نے تصدیق کی ہے کہ "یورپ، امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور افریقہ سے آنے والے تمام ایرانی عازمین حج جنہوں نے ویزے کی درخواست جمع کرائی تھی وہ سب اس وقت مکہ مکرمہ میں اپنی موجودگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ ان شاء اللہ اپنے مناسک کی ادائیگی کے بعد اپنے ممالک کو خیر و عافیت سے لوٹیں گے"۔

بنتن نے باور کرایا کہ ان کا ملک ایران کے باہر سے آنے والے تمام ایرانی عازمین حج کو ویزے دینے پر آمادہ ہوا جو ایران کی جانب سے مملکت پر اس الزام کا جواب بھی ہے کہ "سعودی عرب نے ایرانیوں کو فریضے کی ادائیگی سے محروم کر دیا"۔

سعودی وزارت حج و عمرہ نے گزشتہ ماہ اس امر کی تصدیق کی تھی کہ مملکت کو بااعتماد سیاحتی کمپنیوں کے ذریعے یورپی ممالک میں مقیم ایرانیوں کو حج ویزے جاری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ پیش رفت ایران کی جانب سے رواں سال اپنے شہریوں کو فریضے کی ادائیگی سے روک دینے کے بعد سامنے آئی۔ ایران سیاسی مقاصد کے لیے حج کے اسلامی رکن کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ حج اور زیارت کے ایرانی مشن کے ڈائریکٹر سعید اوحدی نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کسی تیسرے ملک کے راستے حج کا سفر نہ کریں۔ یہ انتباہ ایران کی جانب سے رواں سال اپنے عازمین حج کو دیار مقدسہ جانے سے روک دینے کے بعد سامنے آیا تھا۔ ایران نے حج انتظامات کے حتمی پروٹوکول کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا کیوں کہ سعودی عرب نے حج کے سیاق سے باہر بعض کارروائیوں کی اجازت سے متعلق ایرانی مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا تھا جو ایران سعودی وزارت برائے حج و عمرہ پر مسلط کرنا چاہتا تھا۔

"سحام نيوز" نے باخبر حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حج پروٹوکول پر دستخط نہ کرنے کا تعلق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی جانب سے دو بنیادی مطالبات سے ہے۔ خامنہ ای نے ایرانی حج مشن کو پابند کیا تھا کہ ان مطالبات سے کسی طور دست بردار نہ ہوں۔ ان میں ایک حرم نبوی میں "دعاء كميل" کا اہتمام جس کا مقصد مملکت سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے اور مملکت کے ساتھ سیاسی حساب بے باق کرنے کے لیے اسلامی شعائر کا استحصال کرنا تھا۔ دوسرا "مشرکین سے براءت" کے اعلان سے متعلق رسم کا انعقاد جو کہ ایرانی ہر سال اس موقع پر ایک ریلی نکالتے ہیں جس سے حج میں غیر معمولی اژدہام پیدا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں