فوجی پرزہ جات ایران اسمگل کرنے والے اسرائیلی کے خلاف فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں سپریم کورٹ نے اریہ الیاہو کوہین نامی شخص کو بے دخل کر کے امریکا بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ وہاں اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔ مذکورہ شخص پر امریکی فوجی فاضل پرزہ جات کو ایران اسمگل کرنے کا الزام ہے۔

ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزارت انصاف کے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ کوہین پر الزام ہے کہ اس نے 2012 اور 2013 کے درمیان ایف 4 وال 14 طرز کے لڑاکا طیاروں کے فاضل پرزہ جات یونان کے راستے ایران اسمگل کیے۔

یاد رہے کہ امریکا نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کو کسی بھی قسم کے فوجی پرزوں کی فروخت پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ یہ پابندی جولائی 2015 میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے کے بعد بھی جاری ہے۔

اس کے علاوہ کوہین پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے 2000ء سے 2004ء کے دوران فوجی پرزہ جات خرید کر اسرائیل میں اپنے گھر بھجوائے۔ عدالت نے کوہین اور اس کے تین ساتھیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے فوجی طیاروں، بکتربند گاڑیوں اور ہوک میزائل میں استعمال ہونے والے فاضل پرزہ جات خرید کر اسرائیل بھجوائے اور شپمنٹ کی تفصیلات اور منزل کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں۔

کوہین کو 2014 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے اسرائیل سے باہر جانے کی کوشش کی تھی۔

امریکا میں فیڈرل کورٹ نے کوہین پر ان الزامات کو ثابت کیا تھا۔ فیصلے کے ایک سال بعد امریکا نے اسرائیل سے ملزم کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تاہم کوہین نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

آخرکار اسرائیلی سپریم کورٹ نے 28 اگست کو جاری کیے جانے والے فیصلے میں ملزم کو امریکی عدالت میں پیش ہونے پر مجبور کر دیا۔ غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ملزم کے خلاف دس لاکھ امریکی ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں